لوڈشیڈنگ تاحال بڑا مسلہ ہے

zaheer-babar-logo

وطن عزیز میں موسم گرما کے آغاز پر ہی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے حصے کو مظفر گڑھ کے قریب ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق ‘گدو اور مظفر گڑھ کے درمیان ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے دو صوبوں میں بجلی کی فراہمی بند ہوئی۔تاہم ان کے بعقول تادم تحریر یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ ٹرِپنگ کیونکر ہوئی ۔ مسلم لیگ ن کے دعووں کے برعکس لوڈ شیڈنگ کا معاملہ بدستورحل طلب ہے۔
اس میں شک وشبہ نہیں رہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ، قومی مسائل میں سے بڑا مسلہ بن چکی۔ پی پی پی ہو یا پی ایم ایل این ہر حکومت نے اس سلسلے میں عوام سے کو دھوکہ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈھنگ ٹپا پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں، حکمران توانائی منصوبوں کی تکمیل کیلئے اربوں ڈالر کے قرضے لے رہے مگر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوررہے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا شارٹ فال7000میگاواٹ تک آچکا یعنی آسان الفاظ میں یہ کہ ہم 2013سے بھی بد تر پوزیشن پر آچکے ۔ پنجاب جسے مسلم لیگ ن اپنی سیاسی حمایت کا گڑھ قرار دیتی ہے بجلی کی عدم دستیابی کا منظر پیش کررہا۔ اب آثار یہی ہیں کہ رمضان المبارک میں ملک کے کئی علاقوں میں سحر وافطار میں بجلی کی آنکھ مچولی خارج ازمکان قرار نہیں دی جارہی۔اس سچائی سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ ملکی صنعت ، زراعت ، تجارت ، بینکنگ غرض ہر شعبہ بجلی کا محتاج ہے یہی وجہ ہے کہ لوڈشنڈنگ کے باعث ملکی ترقی اور استحکام بھی عدم تحفظ سے دوچار ہے۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی یہ تجویز غلط نہیں کہ لوڈشیڈنگ ختم نہ کرنے پر شہباز شریف کا نام لوڈشیڈنگ رکھا جائے۔کیونکہ وہ ہر مرتبہ نئی کہانی سنا دیتے ہیں“
تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے نہ تو بجلی کے پرانے تاروں کو ہی بدلنے کی کوشش کی جن کی بدولت لائن لاسز ہوتے ہیں اور نہ ہی پرانے بوسیدہ فیڈرز اور آلات کی اوور ہالنگ اور مرمت میں کوئی پیش رفت دیکھائی دی ۔
مسلم لیگ ن ایک طرف قانونی اور سیاسی مسائل کا شکار ہے تو دوسری جانب اپنی بدترین کارکردگی کے باعث عوام کے غیض وغضب کا نشانہ بن سکتی ہے۔ کئی دہائیوں سے ملکی سیاست پر بالعموم اور قومی سیاست میں بالخصوص نمایاں انداز میں موجود ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ 2013 کے انتخابات میں شریف بردارن کا بڑا وعدہ تھا مگر افسوس ہے دیگر وعدوں کی طرح یہ بھی وفا نہ ہوسکا۔ حکمران جماعت کچھ بھی کرتی رہے مگر عام پاکستانی کی لوڈشیڈنگ کی شکل میں مشکل کم نہیں ہونے والی۔ عام انتخابات کو زیادہ دن نہیں رہ گے۔یہ دیکھنا دلچیسپی سے خالی نہ ہوگا کہ کب اور کیسے مسلم لیگ ن کے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنے ووٹروں کو مطعمن کرتے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ نگران حکومت کے دنوں میں مسلم لیگ ن ممکن حد تک اپنا اثررسوخ استمال کرنے کی کوشش کریںگی کہ الیکشن کے دن تک کم سے کم لوڈشینڈنگ کی جائے تاکہ عام آدمی کو یہ تاثردیا جاسکے کہ اس بجلی کی دستیابی جس حد تک بھی ممکن ہوئی ہے وہ ان کی بدولت ہے۔
مملکت خداداد پاکستان کی سیاست تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی یہ رججان فروغ پذیر ہے کہ وہ عوامی نمائندوں سے مسائل حل کرنے کی امید کررہے چنانچہ ایسا ممکن نہیں کہ ایک طرف لوگوں کی مشکلات کم نہ ہوں تو دوسری طرف ان کی سیاسی وابستگی میں کوئی فرق نہ آئے۔
ریکارڈ پر ہے کہ دوہزار تیرہ کے الیکشن میں پی پی پی کو عوام کی خدمت نہ کرنے کا خمیازہ برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ آخری وقت تک یہی سمجھتی رہی کہ دوہزار آٹھ کے عام انتخابات میں انھیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سیاسی فائدہ دے گی تو دوہزار تیرہ میں یہ حربہ کام کرجائیگا مگر ایسا نہ ہوا۔ آج پی ایم ایل این کی صورت حال بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ سابق وزیر اعظم یہ سمجھ رہے کہ محض مظلوم بنے سے ان کا کام چل جائیگا مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ حالیہ دنوں میں جس طرح قومی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی وہ جہاں قابل افسوس ہے وہی اس کی عوام میں پذائری ملنے کا امکان بھی نہیں۔
بجلی کی عدم دسیتابی کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ مسلم لیگ ن کو سمجھ لینا چاہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتری سکی۔ عصر حاضر میں بنیادی ضروریات میںبجلی کی دسیتابی بھی لازم ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ اہل اقتدار اپنی بنیادی فرائض کی ادائیگی میںناکام نظر آتے ہیں۔ میاں نوازشریف قومی اداروں پر الزام تراشی میں تو پیش پیش ہیں مگر وہ عوام کو یہ بتانے کو تیار نہیں کہ آخر وہ کون سے وجوہات تھیں جو انھیں ان کی اخلاقی اور قانونی زمہ داریوں کی ادائیگی میں روکنے میں ناکام نظر آئیں۔
کسی دانشور نے درست کہا کہ زندگی دوسروں کی خامیوں کی بجائے اپنی خوبیوں کے سہارے بسر کی جانی چاہے۔ میاں نوازشریف کو اس کا حساب دینا چاہے کہ 35سال تک قومی سیاست میں رہنے کے بعد ان کی کامیابی کیا ہے۔ موڑوے ، اورینج ٹرین اور میڑو اور چند دیگر منصوبوں کے علاوہ عوام کے لیے کیا گیا ہے۔ شائد ن لیگ کی قیادت کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اس سے سبق کوئی نہیں سیکھتا ۔۔۔

Scroll To Top