آل انڈیا نیشنل کانگریس کی سوچ زندہ کی جارہی ہے 01-05-2013

kal-ki-baat
اِن دنوں سیاسی صف بندی کچھ اِس نہج پر ہورہی ہے کہ پہلی نظر میں یہ گمان ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ تحریکِ پاکستان کو دوبارہ شروع کئے جانے کی ضرورت پیش آگئی ہے۔
ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی شناخت لبرل افکار اور سیکولر اندازِ سیاست کے ساتھ کرکے اس جدوجہد کی یادیں تازہ کردی ہیں جو دو قومی نظریہ کی علمبردار مسلم لیگ نے قائداعظم ؒ کی قیادت میں لبرل افکار اور سیکولر انداز سیاست رکھنے والی قوتوں کے خلاف قیامِ پاکستان کے لئے کی تھی۔
اگر آپ غور سے اے این پی` ایم کیو ایم اور پی پی پی کے متحدہ محاذ کے افکار اور لب ولہجے کا جائزہ لیں تو آپ کے ذہن میں آل انڈیا نیشنل کانگریس اور اس کے حلیفوں کے ان دھواں دار بیانات کی یاد تازہ ہوجائے گی جو قائداعظمؒ ` دو قومی نظریہ اور مسلم لیگ کے خلاف دیئے جاتے تھے۔ فرق صرف یہ نظر آتا ہے کہ تب ” طالبان “ اور ” اسلامی دہشت گردی “ کا ہّوا موجود نہیں تھا۔ اور مسلم لیگ خود ایک ہّوا بنی ہوئی تھی۔ تب بھی نام نہاد لبرل اور سیکولر قوتوں کا نعرہ یہ تھا کہ سیاست میں مذہب یعنی اسلام کا عمل دخل قبول نہیں اور آج بھی وہی نعرہ اے این پی ` ایم کیو ایم اور پی پی پی کے پلیٹ فارم سے بلند ہورہا ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پی پی پی کی نظریاتی اساس اس انداز میں لبرل اور سیکولر نہیں جس انداز میں اے این پی کی ہے۔ہوا یہ ہے کہ امریکہ نے اپنے تمام سیاسی حلیفوں اور حامیوں کو ” لبرلزم اور سیکولرزم“ کا پرکشش پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے اور ایسے تمام عناصر جو اسلام کی متعین کردہ حدود کی قیود سے آزاد رہنے کے متمنی ہیں وہ اس پلیٹ فارم پر جمع ہوچکے ہیں۔
جہاں تک دہشت گردوں کا تعلق ہے انہیں پاکستان کے ریاستی استحکام کو نشانہ بنانے کے لئے محض ایک بہانے یا جواز کی ضرورت ہے۔ یہ بہانہ اور جواز لبرلزم اور سیکولرزم کے ٹھیکیداروں نے اسلام کے خلاف کھلم کھلا مہم چلا کر فراہم کردیا ہے !

Scroll To Top