”میں نے کہیں پڑھا ہے پتا جی کہ پولیوکی طرح حبِ الوطنی بھی لاعلاج مرض ہے ۔۔۔“

aaj-ki-baat-new

” ہمہ تن گوش کی ڈائری“ روزنامہ الاخبار کا ایک نہایت مقبول سلسلہ تھا۔۔۔ اس ڈائری کے قلمکار کا نام ہمیشہ صیغہ ءراز میں رہا۔۔۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ اسے میں قلمبند کرتا ہوں۔ ۔۔ یہ خیال صرف اس حد تک درست تھا کہ ہمہ تن گوش کی ڈائری مجھ تک ایک کیسٹ کی صورت میں پہنچتی تھی اور آوازوں کو تحریر میں لانے کی ذمہ داری میری ہوتی تھی۔۔۔
”ہمہ تن گوش کی ڈائری “ کا آغاز انگریزی زبان سے ہوا تھا۔ یہ 1989ءاور 1990ءکی بات ہے۔ تب یہ ڈائری ویکلی مِڈایشیا(MIDASIA) میں Eavesdroper’s Diaryکے زیر عنوان شائع ہوا کرتی تھی۔۔۔
ویکلی مِڈایشیا کے قارئین میں ایک بڑی شخصیت کا نام بے نظیر بھٹو تھا۔ انہوں نے 1990ءکے اواخر میں مجھ سے پوچھا۔
“Who Writes Eavesdropper’s Diary?”
یہ ڈائری کون لکھتا ہے ۔۔۔؟“
میرا جواب تھا۔۔۔” الفاظ میرے ہوتے ہیں آواز کسی اور کی ہوتی ہے ۔۔۔“
وہ مسکرا کر چپ ہوگئی تھیں۔۔۔
1996ءمیں جب میں نے روز نامہ ” الاخبار“ کو اپنی تحویل میں لیا تو مجھے اچھے عنوانات اور قابلِ مطالعہ قلمکاروں کی ضرورت تھی۔ کچھ عرصہ تک ضمیر نفیس ¾ اثر چوہان اور فرہاد زیدی کالم لکھتے رہے۔ مگر مجھے ایک ایسے سلسلے کی کمی محسوس ہوئی جو قارئین کی سوچوں میں گھس جائے۔۔۔
صفحہ اول پر میرا کالم ” آج کی بات “ شائع ہوتا تھا جسے روزِ اول سے ہی شرفِ قبولیت حاصل ہوگیا۔۔۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ Eavesdropper’s Diaryکو الاخبار کا حصہ بنایا جائے۔ جیسے ویکلی مِڈایشیا کا ایک مقبول کالم Echoes of the Heartالاخبار کا حصہ بن چکا تھا۔ لیکن ایک اُردو اخبار میں انگریزی زبان کے دو کالموں کی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ میں نے Eavesdropper’s Diaryکا اُردو ترجمہ کرلیا۔۔۔ ہمہ تن گوش کی ڈائری ۔
” ہمہ تن گوش “ Eavesdropperسے زیادہ جامع ترکیب تھی۔ چوری چھپے کان لگا کر باتیں سننا اور بات تھی۔اور پورے وجود کو کان بنا کر باتیں سننا اور بات تھی۔
ہمہ تن گوش کے پاس دو ایسی بیانک بیٹریاں تھیں جو وہ جب کانوں میں فٹ کرتا تھا تو وہ دوردراز کی آوازیں بھی سن سکتا تھا ۔ مختلف آوازوں کی فریکوئنسی کی مدد سے وہ کسی کی بھی آواز تک کسی بھی وقت رسائی حاصل کرلیتا تھا۔۔۔
ہمہ تن گوش کے دوستوں میں ایک کا نام جنابر تھا جو دراصل ایک جن تھا او ر کبھی کبھی انسانی روپ میں اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ اس جن کی عمر 1400برس کے لگ بھگ تھی اور اس نے اسلام اُسی زمانے میں قبول کیا تھا۔۔۔ہمہ تن گوش کا دوسرا دوست ” واقفِ حال“ تھا جو ایک صحافی تھا اور بعض ناگزیر وجوہ کی بناءپر اپنا نام ظاہر نہیں کرتا تھا۔
میرے بے پناہ اصرار پر ہمہ تن گوش نے اپنی ڈائری ایک بار پھر شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔۔۔
” باقاعدہ آغاز میں ایک دو روز کروں گا۔۔۔“ ہمہ تن گوش نے مجھ سے کہا ہے ۔ ” روزانہ ڈائری بھیجنا میرے لئے مشکل ہوگا۔ پہلے والی فراغت مجھے اب حاصل نہیں۔ ویسے لکھنا تو آپ نے ہی ہے۔ آپ کے لئے بھی روزانہ وقت نکالنا مشکل ہوگا۔۔۔“
” غائب ہونے کا کوئی نیا بہانہ تو نہیں تراشیں گے آپ ؟ “ میں نے پوچھا۔۔۔
” آپ کی تسلّی کے لئے آج بھی ایک نمونہ بھیج رہا ہوں۔۔۔ بڑا مختصر ہے۔۔۔ یوں ہی خیال آیا کہ جاکر سنوں تو کہ شریف فیملی میں کیا کھچڑی پک رہی ہے۔۔۔ باپ بیٹی دونوں کی فریکوئنسی میرے پاس موجود ہے۔ اپنی جادوی بیانک بیڑیاں آن کرکے وہاں پہنچا تو محترمہ کہہ رہی تھی۔
” پتا جی۔۔۔ آپ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔“
” بیٹی مجھے یہ پتا جی کچھ عجیب لگتا ہے۔ تم ابا جان ہی کہا کرو۔ کسی نے سن لیا تو خواہ مخواہ نیا طوفان کھڑا ہوجائے گا۔۔۔“
” مجھے جگنو آنٹی کی اِس رائے میں بڑا وزن لگتا ہے کہ ابا کو پتا کہنے سے ¾ اللہ کو بھگوان کہنے سے اور پیغمبر کو اوتارکہنے سے کوئی قیامت نہیں آجاتی۔۔۔ ہمیں تعصب کی زنجیریں توڑنی ہوں گی۔۔۔“
” مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے بیٹی کہ تم اس قدر ذہین اور قابل ہو گئی ہو۔۔۔ لیکن اگر تمہارے ہاتھ میں وہ لکیر نہ ہوئی جس نے مجھے تین مرتبہ وزیراعظم بنایا تو ۔۔۔؟“
” نراش نہ ہوں پتا جی۔۔۔ مال ہو تو لکیریں بھی بن جاتی ہیں۔۔۔ آپ ہی تو کہا کرتے تھے کہ جنرل اور جج چند کروڑ کی مار ہوتے ہیں۔۔۔ ہمارے پاس تو اربوں ہیں۔۔۔“
” بیٹی ہماارا پالا جن جنرلز اورججوں کے ساتھ پڑا ہے انہیں رام کرنے کے لئے صرف مال کا فی نہیں وہ مجھے سچ مچ خلائی مخلوق لگتے ہیں۔۔۔
” میں نے کہیں پڑھا ہے پتا جی کہ حبِ الوطنی بھی پولیوکی طرح لاعلاج مرض ہے۔۔۔“

Scroll To Top