نوازشریف پاکستان کی مشکلات بڑھائیں گے !

zaheer-babar-logo

سابق وزیر اعظم ڈان اخبار کو دیئے گے انٹرویو پر بدستور قائم ہیں۔ نوازشریف اس ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ایسے موقعہ پر کررہے جب سیاست دان ، میڈیا اور سب سے بڑھ کر عوام ان کے پاکستان مخالف خیالات کی بھرپور مذمت کررہے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اپنے انٹرویو بارے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا یہ اعلامیہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے اور حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ اب پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا یعنی ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی “۔
میاں نوازشریف بھارت ، افغانستان اور امریکہ کی زبان بولتے ہوئے یہ لحاظ کرنے کو تیار نہیں کہ ان کے خود غرضی پر مبنی اس موقف سے ملک کو کتنا نقصان ہوسکتا ہے۔ مقام شکر ہے کہ ڈان اخبار کو دیئے جانے والے انٹرویو کو ملک کے ہر باشعور شخص نے ایسی سازش قرار دیا جس کا مقصد پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ یقینا قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ غلط نہیں جس میں کہا گیا کہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔“
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ انگریزی اخبار کو سابق وزیر اعظم کا دیا جانے والا انٹرویو آخری نہیں۔ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی تقریروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مسقبل قریب میں وہ مذید ایسے ”انکشافات “ کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ مغربی دنیا کی آنکھ کا تارا بن جائیں۔
سابق وزیر اعظم یہ دہائی دے رہے کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ۔ سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف کو بتانا چاہے کہ چار سال بطور وزیر اعظم وہ کیا کارکردگی دکھا سکے۔ مسلم لیگ ن کو یہ بھی بتانا چاہے کہ جب وہ کالعدم گروہوں کے ساتھ مذاکرت کررہے تھے تو وہ ملک وملت کو کس طرح کا امن دینے کے لیے کوشاں تھے ۔ میاں نوازشریف کے سابق ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے یقین نہیںکیا جاسکتا کہ اگر ان کے متازعہ انٹرویو پر قومی کمیشن بن بھی گیا تو وہ اس کے نتائج قبول کرنے کو تیار ہوجائیں گے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پانامہ لیکس سامنے آنے پر میاں نوازشریف نے ہی سپریم کورٹ کو خط لکھا مگر اپنے خلاف فیصلہ آنے پر عدالت عظمی کے ہی مخالف ہوگے۔
انتہاپسندی کے خاتمہ کے لیے مسلم لیگ ن کی کوششوں کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ گزرے ماہ وسال میں لاہور میں جامعہ نعیمہ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب میاں شبہاز شریف کہہ چکے کہ انتہاپسند گروہ صرف پنجاب میں دہشت گرد کاروائیاں نہ کریں۔سابق وزیراعظم کے پاکستان مخالف بیان کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھرپور انداز میں تنقید کی جارہی۔ صوبائی اسمبلیوں میں قردادیں پیش کی جارہی جس میں میاں نوازشریف کی مذمت کے علاوہ ان سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر غدار نواز “ٹاپ ٹرینڈ کررہا جس سے یہ باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ سابق وزیر اعظم کے بھارت کو خوش کرنے کے بیان کو کس حد تک ناپسند کررہے۔
میاں نوازشریف شائد پنجاب کے وہ پہلے سیاست دان ہیں جو عدلیہ اور فوج کے خلاف محاذ بنا کر پانچ دریاوں کی سرزمین کے باسیوں سے ووٹ لینے کے لیے کوشاں ہیں۔ سابق وزیر اعظم کو نہیں بھولنا چاہے کہ گذشتہ پانچ سال ہی نہیں کم وبیش 35سالوں سے جس کارکردگی کا مظاہرہ انھوں نے کیا وہ صوبے کے عوام کے لیے ہرگز اطمنیان بخش نہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ تین مرتبہ وزرات عظمی کے منصب پر فائز ہونے والا شخص مخص اپنے مالی مفادات پر مبنی سیاست کے لیے قومی سلامتی کو داعو پر لگارہا ہے۔ بھارتی میڈیا میاں نوازشریف کے بیان کو کس طرح پراجیکٹ کررہا یہ ریکارڈ پر ہے ۔ آج حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مخالف علاقائی اور عالمی طاقتیں اس انٹرویو کو اپنے موقف کے حق میں استمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
مسلم لیگ ن کا یہ کہنا درست نہیں کہ ممبئی حملوں سے متعلق بھارت سابق وزیراعظم کے بیان کو غلط انداز میں پیش کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی اور نہیں نوازشریف ہی ہے جس نے پاکستان کے بائیس کروڈ عوام کے مسقبل پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔
عام انتخابات میں اب زیادہ دن نہیں رہ گے ، قوی امکان ہے کہ مسلم لیگ ن کے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سے لوگ یہ سوال کریں کہ وہ منتخب ہوکر پاکستان کی خدمت کریں گے یا اپنے قائد کے احکامات کے مطابق بھارت کی مشکلات آسان کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے اس انٹرویو کی غلط رپورٹنگ کی مذمت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر آپ اس پر مزید بات کرنے کے لیے کمیشن بنانا چاہتے ہیں، سچائی کی تلاش اور مفاہمت کے لیے کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو اسے بنائیں او اسے بننا چاہیے، کبھی ہم الزامات لگاتے ہیں، ماضی میں جانا ہے تو پارلیمان کمیشن بنا دے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام معاملہ غلط رپورٹنگ سے شروع ہوا ہے اور اب مکمل وضاحت کی جا چکی ہیں۔

انھوں نے حزب اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اب بھی اس مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں لیکن اس سے ملکی مفاد کو ٹھیس ہی پہنچے گی۔

Scroll To Top