یہ پیشگوئی کسی نجومی کی نہیں 27-04-2013

kal-ki-baat

اس تاریخی حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ حقیقی مسلم لیگ قائداعظم ؒ کی رحلت کے کچھ ہی عرصے بعد اللہ کو پیاری ہوگئی۔ اس کے بعد یہ محض ایک ” برانڈ نیم “ بن گئی ۔ بہت ساری جماعتوں نے اپنے آپ کو مسلم لیگ قرار دے دیا۔ حکمران طبقے کو یہ ” برانڈ نیم “ خصوصی طور پر بہت پسند تھا کیوں کہ اس نام سے ” قائداعظم ؒ “ کی خوشبو آتی تھی اور اس خوشبو کی وجہ سے عوام کو دھوکہ دینے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آیا کرتی تھی۔
1950ءکی دہائی میں ایک جماعت ری پبلکن پارٹی کے نام سے قائم ہوئی جس کا عزم ِصمیم یہ تھا کہ مسلم لیگ کے نام کو بھی ختم کرکے دم لے گی۔ اس پارٹی کے روحِ رواں ڈاکٹر خان بنے جو سرخپوش لیڈر اور سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے بھائی تھے۔
ری پبلکن پارٹی کو اپنی موت آپ مرنے میں زیادہ وقت نہ لگا لیکن مسلم لیگ حکمران طبقے کی سرپرستی کی وجہ سے قائم رہی۔ اسے فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاکستان مسلم لیگ (کنونشن)کی شناخت کے ساتھ اوجِ ثریا عطا کیا۔ پھر اس نام کے ساتھ ایک اور جماعت جنرل ضیاءالحق کے دور میں اٹھی جو کئی ٹکڑوں یا ٹکڑیوں میں تقسیم ہوگئی۔ پاکستان مسلم لیگ )ن(اسی جماعت کی جانشین ہے۔
میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اب یہ برانڈ اپنی کشش کھوتا چلا جارہا ہے۔ اس وقت بھی چار مسلم لیگیں میدانِ سیاست میں اتری ہوئی ہیں۔ نون ’ قاف ’ ف ’ اور جنرل (ر)مشرف والی آل پاکستان مسلم لیگ۔ میرے خیال میں ہم خیالوں اور حامد ناصر چٹھہ والی مسلم لیگ کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔
میںکوئی نجومی نہیں ہوں مگر میرے پاس یہ پیشگوئی کرنے کا پورا جواز موجود ہے کہ حالیہ سیاسی دنگل کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن)کا بھی وہی حشر ہوگا جو حشر 1970ءکے انتخابات کے بعد ایوب خان کی مسلم لیگ کا ہوا۔
اگلے عام انتخابات جب بھی ہوئے قومی سطح پر دو ہی بڑی جماعتیں برسرِپیکار نظر آئیں گی۔ اُن میں ایک تو تیزی کے ساتھ زوال کا سفر طے کرنے والی پی پی پی ہوگی اور دوسری جماعت تیزی کے ساتھ آگے آنے والی پی ٹی آئی ۔

Scroll To Top