اگر اب بھی اللہ تعالیٰ کو اپنے حبیب ﷺ کی بدقسمت اور بے غیرت اُمّت پر ترس نہ آیا تو کب آئے گا؟

aaj-ki-baat-new

کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنی قومی شناخت پر بے غیرتی کا لیبل چسپاں کرلیا ہے۔ آج ماہرہ خان نامی ایک اداکارہ نے نیم برہنہ لباس میں دنیا بھر کے کیمروں کے سامنے اپنے جسمانی اثاثوں کی نمائش کرکے مملکتِ خدادادپاکستان پر(جسے اسلامی جمہوریہ بھی کہتے ہیں)بے غیرتی کی مہر تصدیق ثبت کردی۔ ایک چینل جو دن رات احادیث مبارکہ سے اپنے ناظرین اور سامعین کا جذبہ ءایمان تازہ کرتا رہتا ہے اس نے بڑے احساسِ تفاخر کے ساتھ اعلان کیا کہ اس فلمی میلے میں دنیا کی توجہ کا مرکز بن کر ماہرہ خان نے اس قوم کا وقار ساری دنیا میں بلند کردیا ہے۔ دکھ مجھے اس بات کا ہوا کہ ان چینلز کے مالکان اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں اِس خوف کی لہر کیوں نہیں دوڑتی کہ تعلیماتِ قرآن کا یوں بے دردی اور بے شرمی کے ساتھ مذاق اڑانے کی سزا جہنم کی آگ ہوگی۔؟
میں داڑھی پوش مولوی نہیں ہوں۔ میں نے دین کو اپنی کاروباری شناخت نہیں بنایا۔میں خود کو مردِ مومن بھی نہیں سمجھتا۔ میں نہیں جانتا کہ میرے دانستہ اور نادانستہ گناہوں کی مجھے کیا سزا ملے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ شعور ضرور دیا ہے کہ نیکی اور بدی ` اچھائی اور برائی `اور خیر و شر کی پہچان اپنی ناقص سمجھ کی بجائے قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں کروں۔ ۔۔
میں ایک پڑھا لکھا آدمی ہوں جس نے اپنی عمر کا بڑا حصہ دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ کرنے میں صرف کیا ہے۔لیکن اپنی تمام تر روشن خیالی اور ترقی یافتگی کے باوجود میرے اندر یہ حوصلہ نہیں کہ میں ایک نیم برہنہ عورت کو بڑے فخر کے ساتھ اپنے ”ننگ“ کی نمائش کرنے پر اِس بدقسمت ملک کی پہچان قرار دے سکوںجسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔
اپنے پاکستان کو بدقسمت کہتے ہوئے مجھے بڑا دُکھ ہورہا ہے۔ لیکن اس سے بڑی بدقسمتی اس ملک کی کیا ہوگی کہ اس کا ایک سابق وزیراعظم کھلے عام دنیا کو دعوت دے رہا ہے کہ اپنی توپوں کا رُخ ہماری طرف موڑ دے۔۔۔؟ یہ شخص اس ملک کی بدقسمتی کا چلتا پھرتا اشتہار ہے۔ اس کی جہالت۔۔۔ اس کی کم علمی۔۔۔ اس کی حرص۔۔۔ اس کی ہوس۔۔۔ اس کی بے ضمیری۔۔۔ اور اس کی ملک دشمنی مجھے ابن علقمی کی یاد دلاتی ہے۔
ابن علقمی کون تھا؟
بغداد کا آخری وزیراعظم جس نے خونخوار ہلاکو خان کے ساتھ یہ خفیہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر منگول وعدہ کریں کہ عباسی خلیفہ کو تخت سے اتار کر اسے یعنی ابن علقمی کو حکمران بنا دیا جائے گا تو وہ بغداد کے دروازے تاتاری لشکر پر کھول دے گا۔۔۔
قدرت کے فیصلے بھی عجیب ہوتے ہیں۔۔۔
ابن علقمی نے بغداد کے دروازے کھول دیئے ۔ دریائے دجّلہ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوگیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر قتل عامِ تاریخ نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ لیکن کیا ابن علقمی کو بغداد کا تخت ملا۔۔۔؟
ہلاکو نے اسے قالین میں لپیٹ کر مست ہاتھیوں کے سپرد کردیا۔ اپنے سپاہیوں سے اس نے کہا۔۔۔ ” جو شخص اپنی قوم کا وفادار نہ ہوسکا اس پر میں کیسے اعتماد کروں۔۔۔؟“
ارادے اِس بدبخت کے بھی ابن علقمی جیسے ہی ہیں جس کی بیٹی کہہ رہی ہے۔
” نوازشریف اس دھرتی کا بیٹا ہے ۔ وہ اس سے کیسے غداری کرسکتا ہے ۔۔۔؟“
اے دُخترِ نواز۔۔۔ اس دھرتی کے کتنے بیٹوں کے محل لندن میں ہیں اور اس دھرتی پر بسنے والے کروڑوں لوگوں کی غربت و افلاس کا منہ چڑا رہے ہیں ؟ اِس قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنا بند کرو۔
اپنی تمام تر بدقسمتیوں کے باوجود یہ ملک بہرحال منشائے الٰہی سے عالمِ وجود میں آیا تھا۔
بے غیرتی ہمیشہ ہماری پہچان نہیں رہے گی۔
بدقسمتی ہمیشہ ہمارا مقدر نہیں بنے گی۔ مجھے دُور سے اُن قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے جن کا انتظار آٹھ سو برس قبل بیت المقدس کو تھا۔ صلاح الدین ایوبیؒ جیسے مسیحا آسمانوں سے نہیں ٹپکتے۔۔۔ ہماری صفوں میں ہی جنم لیتے ہیں۔
بیت المقدس لہو لہو ہے۔۔۔
کشمیر لہو لہو ہے۔۔۔
اور پاکستان پر بے غیرتی نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
اگر اب بھی محمد ﷺ کے خدا کو اپنے حبیب ﷺ کی اُمّت پر ترس نہ آیا تو کب آئے گا۔۔۔؟

Scroll To Top