ریاست مخالف بیان: نواز شریف کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست قابل سماعت قرار

  • اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخوست کو قابل سماعت قرار دے دیا، ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی اے سے بھی جواب طلب
  • ملک کے مختلف شہروں میں نااہل وزیر اعظم کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواستوں کے علاوہ سیالکوٹ، شکرگڑھ ، حیدرآباد، خوشاب اور اوکاڑہ میں احتجاجی مظاہرے ، متنازعہ بیان دینے پر نواز شریف کے خلاف ریاستی قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ سے متعلق درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔ منگل کو ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد نواز شریف کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کر سنایا اور درخوست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی اے سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس عامر فاروق نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی درخواست پر سماعت کی تھی۔ اس موقع پر وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے 3 مئی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر قومی راز افشا کرنے کی دھمکی دی۔وکیل نے کہا کہ نواز شریف کے 12 مئی کے بیان کو بھارت نے پاکستان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے اعتراف کے طور پر لیا۔ وکیل بابر اعوان نے استدعا کی تھی کہ ڈی جی ایف آئی اے کو نواز شریف کے خلاف کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔دریں اثناءراولپنڈی میں سابق وزیر اعظم کیخلاف غداری کی درخواست جمع کرانے والے ایک شہری کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے بیان سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے بھی نوازشریف کے خلاف مقدمہ کے لیے درخواست دائر کر دی۔ پشاور میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے تھانہ بھانہ ماڑی میں درخواست جمع کرا دی۔ گوجرانوالہ میں تحریک انصاف کا سابق وزیراعظم کے خلاف پریس کلب کے باہر مظاہرہ، نوازشریف کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔سیالکوٹ، شکرگڑھ میں نوازشریف کے متنازع بیان پر شہر ی برہم ہو گئے۔ مختلف تھانوں میں درخواستیں بھی دے دیں۔ حیدرآباد، خوشاب، اوکاڑہ میں بھی سابق وزیراعظم کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے درخواستیں جمع کرا دی گئیں۔

Scroll To Top