نا اہل وزیراعظم اپنے ملک دشمن ایجنڈے پر ڈٹ گئے: قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ اور اپنے نمک حلال وزیراعظم کی وضاحتیں مسترد کر دیں

  • قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کرے ،پاکستان دنیا میں تنہا ہو چکا، دنیا کا کون سا ملک ہے جو ہمارے ساتھ ہے ؟ معلوم ہونا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی
  • میں صرف پاکستانی شہری نہیں، قوم نے مجھے وزیراعظم بھی بنایا، بہت کچھ جانتا ہوں،اب فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ہے؟، نااہل وزیر اعظم کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت
اسلا م آباد، وزیر اعظم نواز شریف جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

اسلا م آباد، وزیر اعظم نواز شریف جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔فائل فوٹو

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے ممبئی حملوں سے متعلق ان کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کے جاری اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوناک اور تکلیف دہ ہے ، قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کرے ،پاکستان دنیا میں تنہا ہو چکا ہے ، بتادیں دنیا کا کون سا ملک ہمارے ساتھ ہے ؟پتہ لگنا چاہیے ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی ، ہمارا اتنا پیارا ملک تھا ،اب اسے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ممبئی حملوں سے متعلق اپنے متنازع بیان پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی باتیں کرنے والے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘اب فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ہے’۔نواز شریف نے مزید کہا کہ ‘میں صرف پاکستانی شہری نہیں، قوم نے مجھے وزیراعظم بھی بنایا، میں بہت کچھ جانتا ہوں’۔ منگل کو احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوسناک، تکلیف دہ ہے ، یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔نواز شریف نے اس معاملے پر قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ کمیشن بننا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے۔نوازشریف نے کہا کہ میں نے پہلے بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہی باتیں کی تھیں کہ گھر کو ٹھیک کریں اور اسے سدھاریں تاہم ان باتوں کو ڈان لیکس بنا دیا گیا۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان دنیا میں تنہا ہو نہیں رہا بلکہ ہوچکا ہے، آپ بتا دیں دنیا کا کون سا ملک ہمارے ساتھ ہے؟۔اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ 5 سال تک آپ کی حکومت رہی، آپ نے ایک بھی ملک دوست نہیں بنایا؟جس پر نواز شریف نے کہا کہ بات ذات کی نہیں پورے ملک کی ہے کہ ملک کس سمت میں چلا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف نے کہاکہ دوسرے ممالک کے ساتھ ہماری دوستیاں ہورہی تھیں، خواجہ آصف سے پوچھیں دوسرے ممالک نے میرے متعلق کیا رائے دی۔ نواز شریف نے کہا کہ ڈان لیکس کے وقت سکیورٹی اجلاس میں بھی یہی بات کی تھی اورسکیورٹی کمیٹی میں کی گئی انہی باتوں کو ڈان لیکس کا نام دے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی، ہمارا اتنا پیارا ملک تھا، اب اسے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔نوازشریف نے کہاکہ ملک کے اندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا ۔

Scroll To Top