قومی سلامتی کمیٹی اجلاس: ممبئی حملوں پر نواز شریف کا بیان غلط اور گمراہ کن قرار

  • ٹھوس حقائق کے برعکس بیان بد قسمتی ہے ، ممبئی کیس کے التواءکا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے ،اجمل قصاب کی عجلت میں پھانسی کیس مکمل نہ ہونے کا اہم سبب، پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس پر بھارتی تعاون کا تا حال منتظر ہے
  • دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار ادا کرتے رہیں گے ،وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر دفاع و خارجہ امور ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی،تینوں مسلح افواج کے سربراہان ،مشیر قومی سلامتی،ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت
اسلام آباد:۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں،تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہیں

اسلام آباد:۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں،تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہیں

اسلام آباد (این این آئی) قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طورپر انگریزی اخبار میں ممبئی حملوں کے حوالے سے شائع ہونے والے بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ٹھوس حقائق کے برعکس بیان کو پیش کر نا بد قسمتی ہے ، ممبئی کیس کے التواءکا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے ،اجمل قصاب کی عجلت میں پھانسی کیس مکمل نہ ہونے کا اہم سبب بنی ، پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس پر بھارتی تعاون کا تا حال منتظر ہے ، کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھی بھارتی تعاون کے منتظر ہیں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہوا جس میں ممبئی حملوں پر 12مئی کوانگریزی اخبار روزنامہ ڈان میں شائع ہونیوالے بیان کا جائزہ لیا گیا ۔یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے ڈان خبار کے ساتھ انٹرویومیں نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کے شرکاءنے متفقہ طورپر بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ ٹھوس حقائق کے برعکس بیان کو پیش کرنا بدقسمتی ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طور پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اجلاس میں جھوٹے دعوو¿ں اور الزامات کی مذمت کی ۔ شرکاءنے کہا کہ ممبئی کیس کے التواءکا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے اور بھارت نے تفتیش کے دوران متعدد بار تعاون سے انکار کیا۔ شرکاءنے کہاکہ بھارت نے مرکزی ملزم تک رسائی دینے سے بھی انکار کیا ،اجمل قصاب کی عجلت میں پھانسی کیس مکمل نہ ہونے کا اہم سبب بنی ۔ شرکاءنے کہاکہ پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس پر بھارتی تعاون کا تا حال منتظر ہے ،شرکاءنے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھی بھارتی تعاون کے منتظر ہیں ۔ قومی سلامتی کمیٹی نے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اجلاس میں وزیر دفاع و خارجہ امور خرم دستگیر خان،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی،تینوں مسلح افواج کے سربراہان ،مشیر قومی سلامتی،ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Scroll To Top