العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس: مریم، حسن اورحسین نے جعلی دستاویزات جمع کرائیں ، گواہ

  • ظاہر کیا گیا تھا کہ اسکریپ دو ٹرکوں میں گیا جبکہ حسین نواز نے جے آئی ٹی کوبتایا مشینری50سے 60 ٹرکوں پرمنتقل ہوئی
  • لندن فلیٹس کی خریداری و دیگر کاروباری دستاویزات بھی جعلی نکلیں،استغاثہ کے گواہ واجد ضیاءکا احتساب عدالت کے روبرو بیان

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس

اسلام آباد(الاخبار نیوز) احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔سابق وزیراعظم نوازشریف کے اکاو¿نٹ کی ٹرانزکشنزکا اصل ریکارڈ نجی بینک منیجرنورین شہزادی نے عدالت میں پیش کیا اور انہوں نے نوازشریف کی طرف سے جاری چیکس بھی پیش کیے۔استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے عدالت میں کہا کہ ظاہر کیا گیا تھا اسکریپ دو ٹرکوں میں گیا جبکہ حسین نواز نے جے آئی ٹی کوبتایا مشینری50سے 60 ٹرکوں پرمنتقل ہوئی۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ کہا گیا مشینری کوالعزیزیہ اسٹیل مل جدہ کے قیام میں استعمال کیا گیا، جے آئی ٹی اس نتیجے پرپہنچی ملزم حسین نواز نے غلط بیانی سے کام لی۔نوازشریف کے وکیل نے اعتراض کیا کہ گواہ متن پڑھ رہا ہے جو قابل قبول شہادت نہیں ہے اور واجد ضیائ حسین نواز کے مبینہ بیان پر انحصار کر رہے ہیں۔واجد ضیاء نے کہا کہ شواہد کے مطابق مریم، حسن، حسین نے جعلی دستاویزات جمع کرائے، لندن فلیٹس کی خریداری و دیگر کاروبارکی دستاویزات جعلی نکلیں۔سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے ایک بار پھراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ کا یہ بیان اس کی رائے پر مشتمل ہے۔جے آئی ٹی سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ اسکریپ دبئی سے جدہ جانے کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔بعدازاں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی، واجد ضیائ کل بھی اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

Scroll To Top