عدلیہ نے ابلنج کا انتخاب کرلیا ہے ! تیسرے چی 25-04-2013

kal-ki-baat
میراآج کا کالم واقعی بے حد مختصر ہوگا ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے پاس لکھنے کے لئے کوئی نیا موضوع نہیں ۔ یا پھر وجہ یہ ہو کہ کبھی کبھی کم لکھنا زیادہ معنی خیز اور متاثر کن ہوتا ہے۔
میرا موضوع عدلیہ ہے۔ جب سے یہ عدلیہ بحال ہوئی ہے اس نے ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے ” ہدف“ کو اپنا چیلنج بنا رکھا ہے۔ ایک چیلنج اپنے لئے اس نے یہ بھی بنایا ہوا ہے کہ ملک کو کرپشن کی لعنت سے نجات دلا کر دم لے گی۔
ان دو اہداف کے تعاقب میں عدلیہ نے تقریباً ایک ہزار کے لگ بھگ دن گزار دیئے ہیں۔ ابھی اس ضمن میں اس کی شب و روز جدوجہد کے ثمرات قوم کے سامنے آنہیں سکے تھے کہ اس نے ملک کو ” غداروں “ اور ” آئین شکنوں “ سے پاک کرنے کا بیڑہ بھی اٹھا لیا ہے۔
شاید عدلیہ کا خیال ہو کہ دوسرے دو چیلنج تو غالباً اس کی ” صلاحیت کار “ کی پہنچ سے باہر تھے ` ممکن ہے کہ تیسرا چیلنج کامیابی کے ساتھ نمٹانا آسان ہو۔
ملک کا ہر محب وطن شہری عدلیہ کے لئے دُعا گو ہے۔
خدا نہ کرے کہ جس طرح قوم کو ہر محاذ پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے ` عدلیہ کے مقدر میں بھی قوم کی ہی تقدیر لکھی گئی ہو۔

Scroll To Top