نوازشریف حد پار کرگے !

سابق وزیراعظم میاںنوازشریف اقتدار سے بے دخلی کے بعد جو موقف اختیار کیے ہوئے ہیں اس کے نتیجے میں خود مسلم لیگ ن کے اندر بے چینی واضطراب بڑھ رہا ہے ۔ ماضی میں بھی ڈان لیکس کے معاملہ میں جو کچھ ہوا بظاہر ایک بار پھر اس کو دہرا دیا گیا۔ڈان اخبار اور سرل المیڈا کو ایک بار پھر ایسے کام کے لیے اسمتال کیا گیا جس سے کم ازکم بھارت کی خوشنودی مطلوب ہے ۔(ڈیک) تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے والا شخص اگر یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ ممبئی حملے کرنے والے غیر ریاستی عناصر کو اجازت دی گی کہ وہ بھارت میں جاکر کاروائی کریں تو یقینا یہ خوفناک صورت حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا میاں نوازشریف کے اس انٹرویو کو اپنے موقف کے حق میں پوری قوت سے استمال کررہا ہے۔(ڈیک) دوسری جانب سابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ کہ والا ممبئی حملہ کیس پاکستان کی وجہ سے نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے عدم تعاون اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوا۔ ادھر سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان اور اس پر بھارتی ردِ عمل پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ ممبئی حملہ کیس کے تمام مراحل سے مکمل طور پرآگاہ ہیں کیونکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اس کیس کی تحقیقات کر رہا تھا جو وزارتِ داخلہ کا ماتحت ادارہ ہے۔ان کے بعقول تمام حالات و واقعات اور کوائف کو سامنے رکھتے ہوئے بات واضح ہے کہ بھارت اس واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے میں نہیں بلکہ اسے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔“
یقینا بھارتی سالوں سے اس واقعے کو بین الاقوامی طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کے آلہ کار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ممبئی حملہ بھارت میں ہوا اور اس کے 90 فیصد شواہد اور حقائق اسی کے پاس تھے مگر پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارتی حکومت متعلقہ شواہد پاکستانی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ تبادلہ کرنے سے گریزاں کرتی رہی۔ حد تو یہ ہے بھارت پاکستانی عدالتوں کی قائم کردہ کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہوا ۔نئی دہلی سرکار نے مذکورہ کمیٹی کو بھارت آنے کی اجازت نہ دی گئی پھر مختلف بہانوں سے نئی دہلی نے تمام شواہد اور حقائق پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ مبصرین کے مطابق بھارت کی بدنیتی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اجمل قصاب جو جو اس واقعے کا واحد زندہ ثبوت تھا عجلت میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔یاد رکھنا چاہے کہ بھارت میں پھانسی کی سزا سے متعلق کیسز برسوں التوا کا شکار رہتے ہیں مگر ایک انتہائی اہم کیس کے واحد ملزم اجمل قصاب کو منظر عام سے ہٹا دیا گیا۔
دراصل بھارت نے پاکستان کے ساتھ کسی بھی معاملے میں مثالی تعاون نہیں کیا ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا واقعہ ہو یا ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنڑول کی خلاف ورزی بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی اورعدم تعاون کا مظاہر ہ کیا۔یقینا ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ میاں نواز شریف کو کیا ضرورت پیش آگی کہ وہ ملک وقوم کا مفاد داو پر لگانے کوتیار ہوگے ۔ ایسے میں جب عام انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گے سابق وزیر اعظم عدلیہ کے بعد دفاعی اداروں کو نشانے بنانے کی حکمت عملی پر کاربند نظر آتے ہیں۔
کون نہیں جانتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے کس قدر قربانیاں دیں۔ یہ کوئی اور نہیں کہ پاکستان ہی تھا جس نے سینکڑوں نہیں ہزاروں جانوں کا نذارنہ پیش کیا۔ اربوں روپے کا نقصان پاکستان کے حصہ میں آیا۔ضرب عضب اور اب ردالفساد کے نتیجے میں ملک کے طول وعرض میں جو امن آیا اسے کون نظر انداز کرسکتا ہے ۔سابق وزیر اعظم کے بیان کے بعد ملکی سیاست اور میڈیا میں ہلچل مچا چکی۔ کئی شہروں میں میاں نوازشریف کی جانب سے پاکستان کے خلاف ہرزاہ سرائی کرنے پر تھانوں میں درخواستیں بھی دیں جاچکیں۔ مسلم لیگ ن کے قائد کا موازنہ ایم کیوایم کے بانی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت کئی سیاسی ومذہبی جماعتوں نے میاں نوازشریف کے بیان کی مذمت کرتی ہوئے انھیں ملک وقوم کا مجرم قرار دیا ہے۔ تازہ پیش رفت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جاچکا جس میں آئی ایس پی آر کے مطابق اس معاملہ پر غور کیا جائیگا۔
دوسری جانب حکمران جماعت یہ دعوی کررہی کہ سابق وزیر اعظم کے بیان کو توڈ مروڈ کر پیش کیا گیا ۔وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف یہ کہتے ہوئے نظر آرہے کہ نوازشریف ایسا بیان دے ہی نہیں سکتے۔ “
مسلم لیگ ن کے ترجمان کچھ بھی کہہ دیں درحقیقت تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنے والی شخصیت نے علاقائی اور عالمی سطح پر ملک کے لیے جو مسائل کھڑے کرنے کی کوشش کی ہے وہ شائد آنے والے دنوں میں بدترین شکل میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔عالمی سطح پر پاکستان جن مسائل شکار ہے وہ بڑی حد تک واضح ہیں ۔ اب نئی صورت حال میں یہ خارج ازمکان نہیں کہ بھارت ، امریکہ اور افغانستان نوازشریف کے اسی بیان کو بنیاد بنا کر پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کرے جو ہمارے داخلی اور خارجی چلینجز کو مذید پچیدہ بنا ڈالے۔

Scroll To Top