کیا عبداللہ ابن ابی لبرل تھا ؟

دہشت گردوں نے جو کارروائیاں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے بعض مخصوص سیاسی جماعتوں کے خلاف شروع کررکھی ہیں وہ ہر لحاظ سے قابل ِ مذمت ہیں۔ مگر ان کا رروائیوں کے حقیقی محرکات کے بارے میں جاننا ہمارے لئے آسان نہیں۔ ہمارے وہ حلقے جو ببانگ ِ دہل اپنے آپ کو ” لبرل “ اور ” سیکولر “ قرار دیتے ہیں ¾ یہ موقف اختیار کئے ہوئے ہیں کہ ان کارروائیوں کا مقصد لبرل اورسیکولر آوازوں کو کچل کر انتہا پسند قوتوں کو تقویت پہنچانے کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ یہ بات گزشتہ دنوں اے این پی کے سربراہ خان اسفند یار ولی خان نے کھل کر کہی ہے اور ہمارے لبرل اور سیکولر تجزیہ کار تو کہہ ہی رہے ہیں۔اس ضمن میں ستم ظریف حقیقت یہ ہوسکتی ہے کہ جو قوتیں ہمارے لبرل اور سیکولر حلقوں کی پشت پناہ ہیں وہی قوتیںاُن دہشت گردوں کو بھی امداد اور تربیت فراہم کررہی ہوں جو پاکستان کوعدم استحکام کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔
یہاں میں کچھ سوال ضرور اٹھانا چاہوںگا۔ ” لبرل “ سے کیا مراد ہے ۔ ؟ کس شخص کو لبرل کہا جاناچاہئے اور کس کو نہیں ؟ کیا ایسا شخص لبرل ہوتا ہے جو قرآن حکیم کے احکامات کو ماننا یہ نہ ماننا ہر فرد کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہو۔ ؟ یا پھر ایسا شخص لبرل ہوتا ہے جس کا نام تو مسلمانوں جیسا ہو یا جو مسلمانی کا دعویٰ بھی کرتا ہو مگر مسلمانی کی ان شرائط کا پابند نہ ہو جو قرآن میں واضح طور پر متعین کی گئی ہیں۔؟
مثال کے طورپر قرآن میں شراب جوے اور زنا کی سختی سے معانعت کی گئی ہے۔ کیا وہ شخص لبرل کہلائے گا جو اس معانعت کو قبول کرنایا نہ کرنا آدمی کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہو۔؟
میرے خیال میں ان اہم سوالوں کا جواب ہمارے لبرل اور سیکولر حلقوں کو ضرور دینا چاہئے۔
آپ کے دورِ مبارک میں مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس کی پہچان ” منافقین“ کے طور پر کی جاتی تھی۔ وہ خود کو مسلمان ہی کہتے تھے لیکن آنحضرت کی تعلیمات کے بارے میں شکوک و شہبات پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ اِن منافقین کی پہچان عبداللہ ابن ابی کے نام سے بخوبی ہوجاتی ہے۔
کیا آج کے دور میں ایسے لوگ لبرل کہلاتے ہیں ؟
)یہ کالم 18-04-2013 کو بھی شائع ہوا تھا(

Scroll To Top