کون کون کہاں کہاں سے فیض پارہا ہے ؟ 24-04-2013

آج کل اس طویل فہرست کا بڑا چرچا ہے جو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری ہوئی ہے اور جس میں ان صحافی و دانشور حضرات کی نشاندہی کی گئی ہے جو گزشتہ برس وفاقی وزارت اطلاعات کے سیکریٹ فنڈ سے” فیضیاب “ہوچکے ہیں یا ہوتے رہے ہیں۔
میری حقیر رائے میں یہ فہرست گمراہ کن ہے۔ اس میں متذکرہ سیکریٹ فنڈ سے فیض پانے والے حقیقی ” خوش قسمتوں “ کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ اور بہت سارے ایسے نام اس میں شامل نظر آتے ہیں جو صرف تکنیکی بنیادوں پر فیضیاب ہوئے ہیں۔ یعنی اگر ” سرکار “ نے کسی صحافی کے کسی دورے کے اخراجات برداشت کئے ہیں تو ان کی ادائیگی بھی سیکریٹ فنڈ سے کی گئی ہے۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ ان میں کوئی بھی دورہ خفیہ نہیں تھا۔ ہمارے صحافی اور دانشور حضرات ببانگِ دہل ایسے دورے کرنے کے عادی اور شوقین ہیں۔ اِن دوروں کا ایک فائدہ انہیں یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی نظروں میں اُن کی ” قدرو منزلت“ اجاگر ہوتی ہے اور ان کی پیشہ ورانہ دھاک بیٹھتی ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کی اپنی جیب سے ” ایک روپیہ “ بھی خرچ نہیں ہوتا۔
میں نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ ایک سرکاری وفد کے ساتھ دورہ کیا اور یہ دورہ بھارت کا تھا جب جنرل پرویزمشرف آگرہ مذاکرات کے لئے گئے تھے۔
میں نے ٹکٹ سے لے کر ہوٹل کے اخراجات تک ایک ایک پائی اپنی جیب سے خرچ کی لیکن اس دورے کے دوران مجھے یہ جان کر دکھ ہوا کہ میرے کچھ ” ہم پیشہ “ قدآور لوگ سرکار سے ایسی ایسی فرمائشیں کرتے رہے جو کسی بھی باوقار اور خود دار آدمی کو زیب نہیں دیتیں۔ مجھے اس ضمن میں ایک فرمائش بطور خاص یاد ہے جو ایک بڑے آنجہانی کالم نگار نے تب کے پی آئی او جناب اشفاق گوندل سے میری موجودگی میں کی۔ ” اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں دورے پر جانے والے وفد کا حصہ بنوں تو مجھے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ دینا ہوگا۔“
ظاہر ہے کہ اُن کی یہ خواہش فوری طور پر پوری کردی گئی۔
میں نہیں جانتا کہ اس قسم کے رویے کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔ لیکن یہ بات میرے علم میں ہے کہ آج کی صحافت کے ساتھ جڑے ہوئے بہت بڑے بڑے ” دانشور “ اور ” تجزیہ کار “ اگر وزارت اطلاعات کے سیکریٹ فنڈ سے فیض نہیں پا رہے تو مختلف سیاسی جماعتوں کے فیاضانہ کلچر سے ضرور استفادہ کررہے ہیں۔ اگر آپ کو معلوم ہوجائے کہ کون کون کس کس پارٹی کے پے رول پر ہے تو آپ کو جھرجھری آجائے گی!

Scroll To Top