احتساب کا عمل آسان نہیں

zaheer-babar-logo
چیئرمین نیب ریٹائر جسٹس جاوید اقبال نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ نیب کے نوٹسز ظہرانے اور عشائیے کے لیے دعوت نامے نہیں ہوتے، بلکہ ایک قومی ادارے کی طرف سے آپ کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کے دوران جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کا تعلق ملک اور ریاست کے ساتھ ہے۔بعقول ان حکومتیں آتیں ہیں اور چلی جاتی ہیں اور اس دوران مختلف اسکیمیں متعارف کراتی ہیں چنانچہ اقدامات اٹھانے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ کہیں آپ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار تو نہیں ۔“
وطن عزیز میں جوابدہی کے نظام پر کسی طور پر اعتماد نہیںکیا جاسکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں احتساب کے نام پر یہاں من ماننے نتائج حاصل کیے گے جس کا یقینا ملک وقوم کو نقصان ہوا۔ گذشتہ ستر سالو ںمیں شائد ہی کبھی ایسا دور آیا جب اہل اقتدار نے اخلاص کے ساتھ کوشش کی کہ خاص طبقہ کی بجائے عام آدمی کا سوچا جائے۔ طاقتور لوگ یہ سمجھتے رہے کہ ان کا مفاد ہی ملک کے مفا د بالاتر ہونا چاہے۔ بظاہر اشرافیہ شائد یہ یقین نہیں رکھتی ہے کہ پاکستان نے قائم و دائم رہنا ہے مگر انھوں نے تاریخ کا حصہ بن جانا ہے۔
۔مملکت خداداد پاکستان میں اب مختلف محاذوں پر بہتری کا عمل شروع ہوچکا۔سب سے بڑھ کر مڈل کلاس جوگزرے ماہ وسال میں عملا سیاست سے لاتعلق تھی اب کھل کر سامنے آرہی ۔ سمجھ لیا گیا ہے کہ اگر حالات کی بہتری کے لیے پڑھے لکھے طبقہ نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو مسائل کسی طور پر کم نہیںہونے والے۔بدعنوانی کے خلاف نفرت کی وجہ یہی ہے کہ عام پاکستانی سمجھتا ہے کہ اسے بنیادی سہولیات اسی لیے میسر نہیں کہ طاقتور طبقات اس کو ملنے والے وسائل پر قابض ہیں۔
ایک طرف ملک کے مسائل پورے طور پر بے نقاب ہورہے تو دوسری جانب سیاسی جماعتیں عوام کی نبض پر ہاتھ نہیں رکھ رہیں ،اس کاعملی اعتراف نہیںکیا جارہا کہ ایسے میں جب لوگوں سے حقائق چھپانا ناممکن ہوچکا تو بہتری کے لیے کوشش کی جائے۔ گذشتہ دس سالوں میں ملک کی تجربہ کار سمجھی جانے والی جماعتوں نے پانچ پانچ سال حکومت کی مگر نتائج سب کے سامنے ہیں۔ تلخ سچائی یہ ہے کہ ملک کے طول وعرض میںشائد ہی کوئی ایسا شہر ہو جہاں پینے کا صاف پانی میسر ہو۔تعلیم اور صحت کی حالت زار بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بااثر لوگوں کی سرپرستی میں مذکورہ دونوں شعبے کاروبار کی شکل اختیار کرچکے جن میں صرف اور صرف نفع نقصان دیکھا جارہا۔
زیادہ پرانی بات نہیں جب حکمران جماعت کے اہم عہدیداروں اسحاق ڈار اور احسن اقبال نے تسلیم کیا کہ کم وبیش چالیس فیصد سے زائد پاکستانی شر ح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کم وبیش آدھی آبادی کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں آئیگا تو ان سے سیاسی شعور کی توقع رکھنا خلاف حقیقت ہی کہلائے گا۔ وطن عزیز میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ، کہا جارہا ہے کہ غریب کیا اب مڈل کلاس بھی مسائل سے دوچار ہوچکی۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے انواع واقسام کی مافیا شہریوں کو لوٹنے میںملوث ہیں۔ سرکاری ادارے عام آدمی کو سہولت دینے کی بجائے بڑی حد تک اس کا استحصال کرنے میں مشغول ہے۔ بیشتر محکموں کے اہلکار ہوں یا افسران ہر کوئی قومی وسائل کو مال مفت دل بے رحم کی شکل میں استمال میں لارہا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ ملک میں حکمران طبقہ خود کو ہر قسم کی جواب دہی سے مبرا سمجھتا ہے لہذا اس کے نیچے کام کرنے والا سرکار عملہ بھی باز پرس سے مبر ا ہوچکا۔
پانامہ لیکس میں نااہل ہونے کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے دیگر لوگوں کا احستاب ہونا معمولی پیش رفت نہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ پی ایم ایل این کے قائد گذشتہ 35سالوں سے قومی سیاست میں فعال کردار ادا کررہے ۔ میاں نوازشریف اور شبہازشریف نے پنجاب پر اس طرح گرفت مضبوط کی کہ سیاست کے ساتھ ساتھ سب ہی سرکاری محکمے ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے گے۔دراصل آج عدالت عظمی اور قومی احتساب بیورو کے لیے مشکلات اسی لیے دکھائی دے رہیں بشیتر سرکاری محکموں میں اعلی عہدوں پر براجمان لوگ شریف خاندان کے ذاتی ملازموں کی شکل اختیار کرچکے۔
یقینا پاکستان تاریخ کے نازک موڈ پر کھڑا ہے۔ آئین اور قانون کی سربلندی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے کے لیے طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ ہو یا نیب اس کی سب ہی کاوشوںکو کامیاب بنانے میں ہر اس زی شعور کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جو ارض وطن میںایسا نظام رائج کرنے کا خواہشمند ہے جہاں ناانصافی کی بجائے میرٹ کی بالادستی ہو۔ یقینا یہ آسان نہیں پانامہ لیکس میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اور دیگر بااثر لوگوں کے نام آنے پر جو طرح قومی اداروں کو ہدف بنایا جارہا وہ اس ان بااثر لوگوں کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اندرون وبیرون ملک بڑے پیمانے پر دولت رکھتے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال کا یقینا امتحان ہے کہ وہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود احتساب کا عمل کب اور کیسے اپنے انجام کو پہنچاتے ہیں۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کسی کانام لیے بغیر کہا کہ ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرکے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر عوام تک پہنچائی جائے گی۔

Scroll To Top