اقلیمِ اخلاقیات اور دو معیار! 20-04-2013

kal-ki-baat
اخلاقیات کی ایک اقلیم ہے جس میں سے کچھ اقدار کو ہم نے نکال باہر پھینکا ہے۔ میں اپنے بارے میں تو یہ کہوں گا کہ مروّجہ روایات کے مطابق میں اپنے آپ کو بنیادپرست سمجھتا ہوں۔ یعنی اگر میرا کوئی عمل یا میری کوئی سوچ قرآنی احکامات سے مطابقت نہیں رکھتی یا پھر براہِ راست متصادم ہے تو اسے میں غلط تصور کرتاہوں اور اس پر شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میرے اندر بڑی کمزوریاں ہیں اور شدید خواہش اور کوششِ بسیار کے باوجود میں اپنے آپ کو ایمانِ کامل کے درجے پر نہیں لے جاسکا۔ خدا میرے گناہ معاف کرے۔ جو بات مجھے قدرے اطمینان بخشتی ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ میں اپنی کمزوریوں سے آگاہ ضرور ہوں اور اُن کا دفاع نہیں کرتا۔
جب تک آپ کو اپنی کمزوریوں کا احساس رہتاہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے فکر و عمل میں اصلاح کی بہت گنجائش ہے ` آپ سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نہیں روٹھتیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہم سب سے تب روٹھتی ہیں جب ہم اپنی ” اقلیمِ اخلاقیات“ سے ایسی اقدار کو بالکل خارج کردیتے ہیں جن کے بغیر ” خیر “ فتحمند ہو ہی نہیں سکتا۔
ہم ٹیکس چوری ` اقربا پروری اور خود غرضی کواگر اقلیمِ اخلاقیات کا حصہ سمجھتے تو ” قعرِ مذلّت“ کو اپنے اسقدرقریب نہ پاتے۔
آپ سو چ رہے ہوں گے کہ یہ وعظ قلمبند کرنے کی ضرورت مجھے آج کیوںپیش آئی ہے تو سب سے پہلے تو میں اس خبر کا ذکر کروں گا جس کے مطابق ہمارے بزرگ نگراں وزیراعظم نے یکایک اپنے ایک بیٹے کا میرٹ دریافت کیا ہے اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کے لئے اسے سترہویں گریڈ سے اٹھا کر انیسویں گریڈ کی پوسٹ پر تعینات کرادیا ہے ۔ پاکستان واقعی ایک بہتی گنگا ہے۔
دوسری خبر جناب رضا ربانی کا وہ بیان ہے جو انہوں نے جنرل (ر)پرویز مشرف کی گرفتاری کے معاملے میں دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ آئین کی نظروں میں ہر شہری برابر ہے۔
درست فرمایا ہے۔
لیکن اگر ایسا ہے تو ہمارے صدر ِ مملکت نے برسہا برس تک استثنیٰ کی پناہ کیوں لئے رکھی اور حکومتی ایوانوں سے یہ آواز کیوں بلند نہ ہوئی کہ صدر رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کریں گے ` اور جب تک انہیں تمام الزامات سے ” بّریت “ حاصل نہیں ہوجاتی ` وہ صدارتی مراعات سے دور رہیں گے۔
ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم ایک معیار پر اپنے آپ کو ` اور دوسرے معیارپر دوسروں کو پرکھتے ہیں۔

Scroll To Top