بغاوت اور انقلاب

aaj-ki-baat-new
موضوع بہت حساس ` نازک اور مشکل ہے مگر میں اس بِر طبع آزمائی کرناچاہتا ہوں۔
موضوع ہے ” آئین “ ۔
آج کل یہ موضوع ` یہ لفظ یا یہ اصطلاح زبان زدِ عام ہے۔ بہت سارے حلقوں میں بات آئین سے غداری یا بغاوت کی ہورہی ہے۔ یہاں میں غداری اور بغاوت کو ایک ہی معنوں میں لکھ رہا ہوں حالانکہ جب بغاوت کا میاب ہوجاتی ہے تو انقلاب کہلاتی ہے۔
فرانس میں شاہ لوئی کے آئین کے خلاف بغاوت ہوئی تو انقلاب کہلائی۔ ایران میں شاہ ایران کے آئین کے خلاف بغاوت ہوئی تو ایرانی انقلاب وجود میں آیا۔زار کے آئین کے پرخچے اڑے تو انقلاب روس نے جنم لیا۔
تو پھر آئین کا مطلب کیا لیا جائے ؟
میری سمجھ میں ایک ہی مطلب آتا ہے اور وہ ہے ”سٹیٹس کو “ (status quo)
”سٹیٹس کو “ کوکامیابی کے ساتھ چیلنج کرنے کا نام انقلاب ہے۔
پاکستان میں فوج کے چار سربراہ ” سٹیٹس کو “ کو چیلنج کرچکے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں آئین کے خلاف بغاوت کرچکے ہیں۔ جب تک بغاوت کامیاب رہی انقلاب کہلائی۔ جب اس ” بغاوت “ کے خلاف بغاوت ہوئی تو تو انقلاب کا لیبل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگیا۔ جنرل ایوب خان کے پیشرو سکندر مرزا نے 1956ءکا آئین توڑا ۔ جنرل یحییٰ خان نے 1962ءکا آئین توڑا۔ جنرل ضیاءالحق نے 1973ءکا آئین توڑا۔ اور جنرل پرویز مشرف نے 1985ءکا آئین توڑا۔
ہر مرتبہ بنیادی طور پر ”سٹیٹس کو “ کو چیلنج کیا گیا۔ اور ہر مرتبہ اس ” چیلنج “ کو کافی بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی۔ یہاں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جانی چاہئے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کسی بھی آئین کو ریفرنڈم کے لئے پیش نہیں کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں ہر آئین بنیادی طور پر اسی طرح کے ” مُک مُکا “ کا نتیجہ تھاجواٹھارہویں اور اس کے بعد ہونے والی ترامیم میں نظر آیا۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اگر عوام کو ” سٹیٹس کو “ کا خاتمہ چاہئے اور وہ انقلاب کا خواب دیکھتے ہیں ` تو انہیں یہ بات یاد رکھنی ہو گی کہ ” محمدی انقلاب “ تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا اور یہ عملی طور پر اس آئین کے خلاف بغاوت تھی جو قریش مکہ نے نافذکر رکھا تھا۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ میرا واحد آئین اس کتاب میں دھڑکتا ہے جسے ہم القرآن کہتے ہیں `اور جو کروڑوںمسلمانوں کے لئے کلامِ الٰہی ہے۔ اگر کوئی بغاوت قابلِ تعزیر جرم ہے تو اِس آئین کے خلاف بغاوت ہے۔
(یہ کالم اس سے پہلے 19-04-2013 کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top