شمالی وزیرستان میں پرتشدد گروہ متحرک ہورہے !

zaheer-babar-logo

وطن عزیز میںایسے صاحب نظر لوگوں کی کمی نہیں جو طویل عرصہ سے یہ دہائی دیتے چلے آرہے کہ اگر قبائلی علاقوں میں آئینی اصلاحات کے معاملہ میں مذید تاخیر روا رکھی گی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان اور افغانستان میںمذہب کے نام پر جو لڑائی لڑی گی اس کی بنیاد خاص نظریہ تھا،اس پر اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ تشدد کو بطور ہتھیار استمال کرنے والوں نے مذہب یا مسلمہ اخلاقی اصولوں کی کس حد تک پاسداری کی۔
ادھر شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد پہلی مرتبہ لڑکیوں کے دو سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا ۔ ان واقعات کی زمہ داری ایک غیر معروف تنظیم نے قبول کی ہے جس نے ایک پمفلٹ ج میں علاقے مکینوں کو لڑکیوں کے ہائی سکولوں کو بند کرنے کا کہا ہے۔دہشت گردی کی اس کاروائی نے ایک بار پھر قبائلی علاقوں میں ماضی کے واقعات کی یاد دلادی جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں میں خاصا خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ شمالی وزیرستان کے بڑے تجارتی مرکز میرعلی تحصیل کے علاقے ہسوخیل میں بدھ کی شب نامعلوم افراد کی جانب سے بچیوں کے مڈل سکول کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا جس سے سکول کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا ۔دراصل تین دن قبل اسی تحصیل میں لڑکوں کے ایک اور مڈل سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس سے سکول کی عمارت کو جزوی طورپر نقصان پہنچایا گیا ۔
دراصل دونوں واقعات رات کی تاریکی میں پیش آئے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ کاروائی کس طرح کی گئیں۔ ‘اتحاد مجاہدین شمالی وزیرستان’ نامی تنظیم کی طرف سے ایک پمفلٹ جاری کیا گیا جس میں ہائی سکول جانے والی لڑکیوں کو سکولوں میں بھیجنے سے منع کیا گیا ۔ کاغذ پر ہاتھ سے تحریرکردہ اس پمفلٹ کے مطابق کہ لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مذکورہ پمفلٹ علاقے کے مختلف مڈل سکولوں کو بھیجا گیا ۔
یقینا یہ معاملہ افسوسناک اور تشویشناک ہے کہ بار بار کے مطالبات کے باوجود فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ پاکستان کا باشعور شہری فکر مند ہے کہ وہ کون سے وجوہات ہیں جو قبائلی علاقوں کو ان کا آئینی حق دینے میں رکاوٹ بن رہیں۔ بادی النظر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بعض سیاسی شخصیات فاٹا میں مسقل بدامنی چاہتی ہیں ان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ دور اور نزدیک کا دشمن یہ دعوی کرسکے کہ سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں مکمل امن نہیں آسکا۔ زمہ داروں کو صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے علاوہ حکومت کو مجبور کرنا چاہیںکہ وہ 31مئی تک اپنی آئینی مدت ختم ہونے سے پہلے قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں ضم کرنے کا تاریخی کام کرجائے۔
دراصل حالیہ ہفتوں میں شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا جس میں قبائلی سردار اور عام شہری مارے گئے ۔مقامی آبادی کے مطابق اپریل کے مہینے میں ٹارگٹ کلنگ کے پانچ واقعات ہوئے جس میں ایک واقعہ میں شادی کی ایک تقریب میں موسیقی کے پروگرام کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو افراد جان بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز کی کامیابیاں اپنی جگہ مگر جب تک سیاسی قیادت مسائل کے حل کے لیے آگے نہیں بڑھتی حتمی جیت ممکن نہیں۔ ہم سب جانتے ہیںکہ سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے بڑے بڑے دعوے کیے کہ مسقبل میں دشمن معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی اجازت نہیںدیں گے مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔
سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی قومی ایکش پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے مگر عملی پیش رفت دیکھنے میں نہ آئی،صورت حال کی خرابی کا اندازہ یوںلگایا گیا کہ سانحہ کوئٹہ میںسپریم کورٹ کے جناب جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میںقائم کمیشن نے قومی ایکشن پلان پر عمل نہ کرنے کا پول کھول کر رکھ دیا۔ ریکارڈ پر ہے کہ ان دنوں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سیخ پا نظر آئے مگر کام پھر بھی نہ ہوا۔
آج قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میںپختوانوں کے نام نہاد تحریک جاری وساری ہے جس کا مقصد لسانی بنیادوں پر ملک میں فاصلے بڑھانا ہے۔ اس گروہ کے جلسوں میں آئین اور قانون کی بات اگر کی بھی جاتی ہے تو اس سے مخصوص پیغام سامنے آتاہے۔ اس تحریک مقاصد کچھ بھی ہو مگر اس میں شک نہیں کہ اس کا بڑا مقصد پاکستان کی اس کامیابی کا اثر زائل کرنا ہے جو ضرب عضب یا ردالفساد کی شکل میں ظاہر ہوئی۔یقینا جس طرح قبائلی علاقوں سے سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوںکو نکال باہر کیا اس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں کچھ نہ کچھ شکایات پیدا ہوئیں مگر جو منظر کشی اب کی جارہی ہے اسے یقینا مبالغہ آرائی سے تعبیر کیا جانا چاہے۔مذکورہ پس منظر میں شمالی وزیر ستان کے علاقے میںامن وامان میں خراب پاکستان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آگے بڑھ کر ان عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جو شمالی وزیر ستان میںبالخصوص اور دیگر قبائلی علاقوں میںبالعموم مسائل پیدا کررہے۔

Scroll To Top