مقدر کی للکار سننے کا وقت اب دور نہیں 12-04-2013

kal-ki-baat
ڈاکٹر شاہد مسعود 10اپریل 2013ءکو کاشف عباسی کے پروگرام میں کہہ رہے تھے کہ جس صفائی اور اطمینان کے ساتھ تقریباً تمام ہی لوگ چھان بین یعنی سکروٹنی کے مرحلے کو عبور کرکے انتخابی میدان میں اُتر آئے ہیں اس کے بعد اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر یہ الیکشن واقعی ہوا تو ہماری تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہوگا۔
ڈاکٹر صاحب کی اس رائے کو ان تمام لوگوں کے نزدیک بڑا وزن حاصل ہے جنہوں نے مسترد کا غذاتِ نامزدگی کے خلاف ہونے والی اپیلوں کو شرفِ قبولیت حاصل ہوتے دیکھا اور جنہوں نے 10اپریل کی شام کو یکے بعد دیگرے تمام ” مسترد امیدواروں “ کے پاک صاف بے داغ اور مکمل طور پر اہل قرار پانے کی خبریں سنیں۔
اب صرف سابق وزرائے اعظم اور ان کے خاندانوں کے بارے میں سوالیہ نشان رہ گئے ہیں جن کا قائم رہنا بھی اب قرین قیاس نظر نہیں آتا۔
یہ نظام چلانے والوں کو پورا یقین ہے کہ اس نظام میں کبھی کوئی ٹیکس چور `کبھی کوئی حرام خور اور بینکوں کے قرضے ہڑپ کرجانے والا کبھی کوئی غاصب پیدا نہیں ہوا۔ اور یہ جو قومی خزانے پر بے رحمانہ ڈاکوں اور قومی دولت کو لوٹنے کی خوفناک وارداتوں کی داستانیں گردش کرتی رہتی ہیں یہ سب کی سب دراصل معصوم اور فرشتہ سیرت سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی مذموم سازشوں کا نتیجہ ہیں۔
کیا قدرت کی نظروں میں ہمارے امتحان ابھی ختم نہیں ہوئے۔؟ کیا قومی مفادات کا گلا بے رحمی کے ساتھ گھونٹنے والے جلادوں کے گلے میں ہار ڈال کر ملک کی تقدیر پھر اُن کے ہاتھوںمیں دینا ہمارا مقدر ٹھہر چکا ہے؟
اور سب کچھ اسی طرح ہونا تھا تو ” بے رحمانہ سکروٹنی “ کا اتنا خوفناک اور سفاک ڈراما کھیل کراس ملک کے بے بس عوام کو بے وقوف کیوں بنایا گیا۔؟
کیا اس ملک کے تمام کے تمام ادارے اس قوم کو ان سفاک لٹیروں کے رحم و کرم پر رکھنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔؟
مجھے تو اپنے ملک کے عدالتی نظام کے کردار پر بھی رونا آرہا ہے۔ ایک عدالت جمشید دستی کو سزا دے کر نا اہل قرار دے دیتی ہے تو فوراً ہی بعد دوسری عدالت اسے باعزت طور پر رہا کردیتی ہے۔
جس روز شاہ زیب قتل کیس کا ثابت شدہ ملزم شاہ رخ جتوئی Vکا نشان بنا کر جیل سے رہا ہوگا وہ دن اس قوم کے لئے ایک للکار کا درجہ رکھے گا۔
وقت آگیا ہے کہ اپنے ایمان کی تلوار یں لہراتے ہوئے اس نظام کو زمین بوس کرنے کے لئے اس کے محافظوں پر” ٹوٹ پڑو۔۔۔“

Scroll To Top