دو ملک ۔۔۔ ایک تقدیر 11-04-2013

kal-ki-baat

یہ شوشہ بھی ہماری ” لبرل اور سیکولر فوج ظفر موج “ کا چھوڑا ہوا ہے کہ جب تک پاکستان کو ” سیکورٹی سٹیٹ “ کے تصور سے الگ نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ ملک معاشی ترقی اور معاشرتی فلاح و بہبود کے راستے پر نہیں ڈالا جاسکتا۔
یہ بات یقینی طور پر ایک آئیڈیل صورتحال سمجھی جانی چاہئے کہ کسی ملک کو سیکورٹی کے معاملے میں قدرتی طور پر تحفظ حاصل ہو اور اسے اپنی دفاعی ضروریات کو اولیت نہ دینی پڑے۔
لیکن دنیا کے نقشے پر کم ازکم دو ممالک ایسے ہیں جنہیں یہ آئیڈیل صورتحال کبھی میسر نہیں ہوگی۔ اور یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ ان دونوں ممالک کا وجود یکے بعد دیگرے 1947ءاور1948ءمیں سامنے آیا۔ 1947ءسے پہلے پاکستان نام کا کوئی ملک دنیا کے نقشے پر موجود نہیں تھا۔ اور1948ءسے پہلے یہی صورتحال اسرائیل کی تھی۔ اگرچہ یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے فطری حریف ہیں لیکن قدرت نے دونوں کا مقدر ایک جیسابنایا ہے۔ دونوں کا قیام ایک لحاظ سے نظریاتی بنیادوں پر عمل میں آیا تھا۔ اسرائیل اس لئے بناکہ یہودیوں کو صدیوں سے اس کی تلاش تھی۔ اور یہ تلاش اس وقت زور پکڑ گئی جب سلطنت عثمانیہ کا آفتاب غروب ہوا اور عرب قوم مختلف ممالک میں تقسیم کردی گئی۔ 1948ءمیں اسرائیل کا خنجر عرب قوم کی پشت میں گھونپ دیا گیا۔ اب یہ بات قدرت کی طرف سے طے پاچکی ہے کہ اسرائیل اسی وقت تک قائم رہ سکے گا جب تک وہ عرب قوم سے زیادہ طاقتور ہے۔
پاکستان کی تقدیر اس سے مختلف نہیں پاکستان کا وجود بھی نظریاتی بنیادوں پر عمل میں آیا۔ اور اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے پاکستان کو ہر دور میں اپنی نظریاتی بنیادوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ مطلب اس بات کا یہ ہوا کہ ایک ” سیکورٹی سٹیٹ “ کے طور پر قائم رہنا پاکستان کا چوائس نہیں فطری تقاضہ ہے۔
یہ بات البتہ درست ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے اسے ایک بڑی اقتصادی طاقت بنانا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ دونوں تقاضے ساتھ ساتھ چلیں گے تو پاکستان خدا کے فضل و کرم سے اسلامی نشاة ثانیہ کی ایک بڑی قوت بنے گا۔
یہ سب کچھ لکھنے کی ضرورت مجھے تحریک انصاف کے منشور میں یہ بات پڑھ کر پیش آئی ہے کہ پاکستان کو سیکورٹی سٹیٹ کی بجائے اکنامک پاور بنایا جائے گا۔
انشاءاللہ پاکستان کی سلامتی بھی مثالی ہوگی اور معیشت بھی۔۔۔

Scroll To Top