اگر درست اور دلیرانہ فیصلہ کرنے میں آپ نے تاخیر کی تو تاریخ بڑی بے رحمی کے ساتھ آپ کو بھی اٹھا کر اپنے کباڑخانے میں پھینک دے گی۔۔۔چوہدری صاحب

aaj-ki-baat-new

بلاشبہ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ (ن)کے ان رہنماﺅں میں شمار ہوتے ہیں جن کے دامن پر ” پاناما“ ٹائپ کے چھینٹے نہیں پڑے۔۔۔ میاں صاحب کا تو پورا خاندان ” پاناما “ کے رنگ میں رنگا ہوا ہے اور ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ انہوں نے اِسی رنگ کا انتخاب کیوں کیا۔۔۔ سوائے اس کے کہ ” میں نے ایک پائی کی کرپشن نہیں کی۔۔۔ اگر کی ہے تو ثبوت سامنے لایا جائے۔۔۔“
ظاہر ہے کہ پاناما رنگ میں رنگے نظر آنے کو میاں صاحب کوئی ثبوت نہیں سمجھتے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کرپشن کبھی ایک پائی پیسے یا روپے کی نہیں کی جاتی ۔۔۔
بات میں چوہدری نثار علی خان کی کررہا ہوں جنہوں نے گزشتہ روز چند محتاط بیانات کے بعد ایک ایسا سخت بیان دیاہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کم ازکم ان کے ” مائنڈ“ میں ان کے راستے میں نوازشریف سے جُدا ہوچکے ہیں۔۔۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اصول پسند اور صاف ستھرے سیاست دان نے تقریباً 35برس تک ایک ایسے شخص کے ساتھ ” رشتہ ءوفاداری “ کیسے نبھایا جس کی سوچ کا ہر راستہ پاناما کی طرف جاتا تھا ؟ میں نے وہ پروگرام دیکھا ہوا ہے جس میں چوہدری نثار علی یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ لندن کے فلیٹ میاں صاحب نے 1990ءکی دہائی میں ہی قرضہ لے کر خریدے تھے جن کی قسطوں کی ادائیگی شاید اب تک ہورہی ہے۔۔۔ یہ بیان چوہدری صاحب نے 2012ءمیں دیا تھا جب کرپشن کے خلاف پاناما پیپرز کا طبلِ جنگ ابھی نہیں بجا تھا۔۔۔؟
کیا چوہدری نثار علی خان جیسے صاف ستھرے سیاست دان کو زیب دیتا تھا کہ وہ میاں صاحب کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداری کے بارے میں شکوک و شہبات کا شکار ہونے کے لئے ” مریم نواز کی لانچنگ“ کے صدمے کا انتظار کرتے۔۔۔؟
بدی ہرحال میں بدی ہے۔۔۔
اگر میاں صاحب اس قابل ہیں کہ ان کی رہبری میں کام کیا جائے تو یہ قابلیت صرف اس وجہ سے ختم نہیں ہوجاتی کہ انہوں نے اپنی جانشینی کا تاج اپنی صاحبزادی کے سر پر رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔
جو بات میری سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان جیسے پڑھے لکھے اور سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص نے ایک ناقابلِ رشک دماغی صلاحیتیں رکھنے والے ایک امیر زادے کو اپنا قائد کیوں بنایا؟ اگر چوہدری نثار علی خان میا ں صاحب کے ” اعلیٰ کردار “ سے یا ان کے نظریاتی تشخّص سے متاثر تھے تو اس کا بھانڈہ بھی اب پھوٹ چکا ہے۔۔۔
میاں صاحب کا کردار پاناما کے رنگ میں رنگا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔
اور انہوں نے فخریہ طور پر یہ اعلان کردیا ہوا ہے کہ ” پہلے میں صرف لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے اللہ اور رسول ﷺ کا نام لیتا تھا۔۔۔ اب میںسچا نظر یاتی بن چکا ہوں جس کی تصدیق محمود خان اچکزئی ` نجم سیٹھی اور نریندر مودی سے کرائی جاسکتی ہے۔۔۔
اب چوہدری نثار علی خان صاحب۔۔۔ اگر آپ کو اب اپنی اصول پسندی او ر سیاسی نیک چلنی ثابت کرنی ہے تو کوئی بڑا ہی دھماکہ کرنا ہوگا۔۔۔
آپ جیسے باصلاحیت سیاستدانوں کو کباڑ خانے کا حصہ نہیں بننا چاہئے ۔۔۔ اگر درست اور دلیرانہ فیصلہ کرنے میں آپ نے تاخیر کی تو تاریخ بڑی بے رحمی کے ساتھ آپ کو بھی اٹھا کر اپنے کباڑخانے میں پھینک دے گی۔۔۔

Scroll To Top