اسلام میں غداری کی پہچان 09-04-2013

kal-ki-baat
جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی بات آگے بڑھ کر سپریم کورٹ تک جا پہنچی ہے۔ میرے قاری جانتے ہیں کہ جنرل(ر)موصوف کے بارے میں میرے خیالات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس کی نظریاتی اساس سے دور لے جانے میں سب سے زیادہ کلیدی کردار جنرل (ر)موصوف کی ” روشن خیال “ سوچ نے ادا کیا ہے۔میری رائے میں تو ” سب سے پہلے پاکستان “ کا نعرہ ہی گمراہ کن تھا کیوں کہ نظریہ ءپاکستان کی بنیاد ہی یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ پھر اس کا فرمان اور پھر اس کا رسول ۔ دوسرے معنوں میں ہم سب پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد باقی سب کچھ ہیں۔ باقی سب کچھ میں ہماری جغرافیائی اور نسلی شناختیں بھی آجاتی ہیں۔
اپنی جغرافیائی شناخت کو اپنی نظریاتی شناخت پر بالادستی دینا ایک ایسے ذہن کا ہی کمال ہوسکتا ہے جو ” نور محمد “ سے خالی ہو۔ میں اعتراف کرتاہوں کہ میری نظروں میں جنرل(ر) پرویز مشرف ایک ایسا ہی ذہن ہیں۔ اس بنیاد پر اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ میری سوچ کے مطابق حقیقی غداری کا ارتکاب جنرل (ر)پرویز مشرف نے آئین کی شق 6سے انحراف کرکے نہیں خدا اور اس کے قانون کی بالادستی سے انحراف کرکے کیا۔
بات چونکہ غداری اور بغاوت کی ہورہی ہے تو آج میں ایک بنیادی سوال اٹھاناچاہتا ہوں ۔ اگر آئین کی ایک شق کی پامالی کی سز ا موت ہوسکتی ہے تو جو بغاوت ہم شب و روز خدا کے احکامات کے خلاف کرتے ہیں ` اور جس غداری کا ارتکاب ہم نے پاکستان میں خدا کی حاکمیت قائم کرنے کے مقصد کو پس پشت ڈال کر کیا ہے اس کی سزا کیا ہونی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص بھی خود کو مسلمان کہتا ہے اور وہ قرآنی احکامات کو اپنی زندگی میں نظرانداز کرتا ہے اس پر بھی غداری اور بغاوت کا مقدمہ چلنا چاہئے۔
اسلامی نظام میں کافر `عیسائی یہودی سب بڑی شان کے ساتھ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ مگر ” مرتد“ کوایک اسلامی معاشرہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتا۔ مرتد کا مطلب وہی ہے جو آج کی سیاسی لعنت میں باغی اور غدار کا ہوتا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ ہم ” مسلمانی “ کا مفہوم واضح طور پر بیان کریں۔ اور اپنی صفوں میں موجود غداروں اور باغیوں کی نشاندہی کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتیں۔ جو معاشرے اپنے غداروں کے ساتھ رعایات برتتے ہیں ` تاریخ ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتا کرتی۔یہ معاملہ ڈائیلاگ یا روشن خیالی کا نہیں۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں انہیں قرآن حکیم کی اُن آیات کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے جن میں ” مسلمانی “ کی تعریف کی گئی ہے۔
جو لوگ نظریہ ءپاکستان سے جان چھڑانے کے آرزومند ہیں وہ دراصل اس خوف کا شکار ہیں کہ کبھی نہ کبھی ان کی ” منافقانہ زندگی “ سوال و جواب کی زد میں ضرور آئے گی۔

Scroll To Top