میاں صاحب مغلِ اعظم سے نارمن وزڈم کیسے بنے ہیں ؟

aaj-ki-baat-new
کوئی زمانہ تھاکہ سیاستدانوں کے بیانات صرف اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔۔۔ یا پھر پی ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے عوام تک پہنچتے تھے ۔۔۔ وہ عوام کے برُے حافظے پر انحصار کرکے کبھی ایک ہی چیز کو کالا ` کبھی ہرا ` کبھی پیلا ` کبھی سرخ اور کبھی نیلا یا سفید قرار دے سکتے تھے۔۔۔ اب میڈیا ترقی کرکے جہاں پہنچ چکا ہے وہاں بیس برس پہلے کہی ہوئی بات بھی بیس سکینڈ میں کہنے والے کو اور عوام کو بھی یاد دلائی جاسکتی ہے۔۔۔ آج میاں نوازشریف اپنی ہر تقریر اور اپنے ہر خطاب میں بڑے تیقّن کے ساتھ نہایت پرُجوش انداز میں قوم کو بتا رہے ہیں کہ اس ملک کو فوجی حکومتوں نے تباہ کیا یا پھر ایسے دو نمبر کے سیاستدانوں نے جنہیں وردی والے اپنے مہروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔۔۔ ہر تقریر میں وہ ووٹ کے تقدس کی حفاظت جان پر کھیل کرکرنے کی قسم کھاتے ہیں۔۔۔ ہر خطاب میں وہ آسمان کو اپنا گواہ بنا کر فرماتے ہیں کہ ان کا اوڑھنا بچھونا جمہوریت ہے اور عوام کی حکمرانی کے لئے وہ اپنا سب کچھ قربان کر ڈالنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔۔۔
لیکن بڑا ستم ظریف ہے یہ میڈیا کہ پلک جھپکتے میں اسی میاں صاحب کو نہایت ولولہ انگیز انداز میں یہ عہد کرتے دکھا دیتا ہے کہ ” میری زندگی کا مقصد ہی مردِ ایمان ` مردِ صداقت اور مردِ حق جنرل ضیاءالحق کے مشن کو آگے بڑھانا او ر اس کی تکمیل کرنا ہے۔۔۔
آج وہ یہ فرما رہے ہوتے ہیں کہ جناب آصف علی زرداری کی ساری زندگی دھوکہ دہی اور لوٹ مار میں گزری ہے اور عمران خان اور زرداری بھائی بھائی ہیں اور دوسرے ہی لمحے میڈیا انہیں یہ فرماتے دکھا دیتا ہے کہ ” زرداری صاحب مجھے بڑا بھائی سمجھتے ہیں اور میں زرداری صاحب کو ۔۔۔ لیکن ہیں ہم بھائی بھائی ہی۔۔۔“
آج وہ فوج کو سارے فساد کی جڑ ` ہر سیاسی عدم استحکام کی ذمہ دار اور تمام مسائل کی کلیدی وجہ قرار دے رہے ہیں۔۔۔ لیکن میڈیا اچانک اُن کا یہ بیان سامنے لے آتا ہے کہ ” فوج کی حرمت پر کسی صورت میں آنچ نہیں آنے دیں گے۔۔۔ فوج کے وقار پر کیچڑ ا چھالنے والے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے۔۔۔ او ر فوج کی شان میں ذرا سی گستاخی کرنے والی زبان کھینچ لی جائے گی۔۔۔“
میڈیا کی شرانگیز پھرتیوں اور چابکدستیوں کی وجہ سے میاں نوازشریف اب لیڈر کم اور مسخرے زیادہ لگنے لگے ہیں۔۔۔ انہیں مسخرہ بنانے میں ان کی صاحبزادی کے علاوہ ان کے نظر نہ آنے والے رفقاءکا دخل بھی ہے جو انہیں گاہے بگا ہے ایسے مشورے دیتے رہتے ہیں جیسے مشورے اچھلے بھلے آدمی کو جیری لیوس ` نارمن وزڈم ` ٹھگنا لارل یا بھولا بھولا رنگیلا بنا ڈالتے ہیں ۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ گاڈفادر کے علاوہ میاں صاحب کے ساتھ جو پہچان برُی طرح چپک چکی ہے وہ ہے مغل اعظم۔۔۔
اِس پہچان کو ایک زندہ حقیقت بنانے میں میاں صاحب کے طور طریقوں ` ان کی چال ڈھال ` ان کے رہن سہن اور ان کے اندازِ شہنشاہی نے بڑا ا ہم کردار ادا کیا ہے۔۔۔
انہیں یقینا کسی منہ چڑھے درباری نے مشورہ دیا ہوگا کہ دشمن آپ کو مغل کہتے ہیں آپ بھی دشمنوں کو مغل کہناشروع کردیں۔۔۔ چنانچہ گزشتہ روز احتساب عدالت سے باہر وہ جو معمول کا ” بھابشن“ دیتے ہیں اس میں انہوں نے فرمایا ۔۔۔
” یہ کوئی زمانہ ہے مغل بننے کا ۔۔۔؟ اس ملک کے حکمران اپنے آپ کو مغل سمجھنے لگے ہیں ۔۔۔“
اگر کوئی خلائی مخلوق واقعی میاں صاحب کے درپے ہے تو اس نے ان کے کان میں یہ سرگوشی ضرور کی ہوگی۔۔۔ ” عالم پناہ۔۔۔ حکمران تو الحمد اللہ آپ خود ہی ہیں۔۔۔“

Scroll To Top