نوازشریف اپنی ذات سے باہر نکلیں گے !

zaheer-babar-logo
سابق وزیر اعظم جس طرح قومی اداروں کو ہدف بنانے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں اس کے نتیجے میں ان کے طرز سیاست پر کئی جانب سے اعتراضات اٹھائے جارہے ۔ ان کے مخالفین تو ایک طرف رہے سابق وزیر اعظم کے حمایتی بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جاری روش ان کو بالخصوص اور ان کی جماعت کو بالمعوم کس حد تک فائدہ دے گی ۔ اب میاں نواز شریف نے اپنے تازہ بیان میں فرمایا ہے کہ ریاست کے تینوں ستونوں پر ایک نے قبضہ کررکھا ہے مذید یہ کہ خلائی مخلوق اپنی مرضی کی پارلیمنٹ لانے میں مصروف ہے تاہم خلائی مخلوق میں اب وہ اثر نہیں رہا “
سوال یہ ہے کہ اگر عوام حقیقی معنوں میں میاں نوازشریف کے ساتھ ہیں تو انھیںکسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہے۔ 2014 کے دھرنے سے متعلق سابق وزیر اعظم کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے ۔دراصل حقائق کو منظر عام پر لانا مہذب دنیا میں یہ نئی بات نہیں وہاں ہر وہ شخصیت جو برسر اقتدار رہی اپنی یاداشتیں مرتب کرتی ہے تاکہ تاریخ میں اس کا موقف محفوظ رہے۔ سابق وزیر اعظم کم وبیش 35 سال سے قومی سیاست میں ہیں ان سے یہ امید کرنا خلاف حقیقت نہیں کہ وہ اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کو آشکار کریںگے۔ مگر میاں نوازشریف کے مخالفین کے بعقول وہ اب محض دھمکیوں سے کام لے رہے ہیں جب اس کے برعکس انھیں رازوں سے پردہ اٹھا دینا چاہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے تک قومی اداروں سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پانامہ لیکس کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی اور نہیں میاں نوازشریف نے خط لکھا تھا مگر جب ان کے خلاف فیصلہ آیا تو وہ ناخوش ہیں ۔
مسلم لیگ ن کے قائد کو جان لینا چاہے کہ عوام کی قابل زکر تعداد ان کی اور ان کی پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی سے کسی طور پر مطمعن نہیں۔دوہزار تیرہ کی انتخابی مہم میںسابق وزیر اعظم نے عوام سے جو وعدے بھی کیے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی وفا نہیں کیا جاسکا۔ مثلا یہ کہا گیا کہ وہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے قبل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیں گے مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔آج حالات ہیںکہ ملک تو دور پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں گھنٹوں لوڈشڈنگ ہورہی مگر حکمران جماعت کو اس کی ہرگز کوئی پرواہ نہیں۔
ادھر شبہازشریف دس سالوں سے تواتر کے ساتھ مسند اقتدار پر فائز ہیں مگر اہل پنجاب کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سرکاری افسران خود عدالتوں میں اعتراف کررہے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہریوںکے پینے کے لیے ایک بوند پانی تک مہیا نہیں کیا جاسکا۔کسی دانشور نے خوب کہا کہ زندگی دوسروں کی ناکامیوں کی بجائے اپنی کامیابیوں کے سہارے گزاری جاتی ہے چنانچہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی بجا طور پر زمہ داری ہے کہ جہاں جہاں وہ برسراقتدار ہیں عام آدمی کی مشکلات حل کرنے کے لیے کمربستہ ہوجاتے۔
آج کا پاکستان کئی لحاظ سے بدل چکا ، ایسا بھی نہیں کہ کروڈوں پاکستانی سیاسی شعور کی بلندی کو جا پہنچے مگر موجودہ حالات ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں۔ اب عوامی سطح پر یہ سمجھا جارہا کہ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی منتخب حکومتوں کی بڑی زمہ داری ہے جس سے کسی قسم کی پہلو تہی برداشت نہیں کی جائیگی ۔ ملکی سیاست بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے عام آدمی کے مطالبات میں شدت پیدا ہونے سے سیاسی جماعتیں دباو محسوس کررہی ہیں چنانچہ عام آدمی کی توقعات پوری نہ ہونے کے باعث وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
تسلیم کہ ملک میں رائج نظام اپنی پختگی سے دور ہے۔ سیاسی جماعتیں بدستور لمیڈ کمپنیاں ہیں۔ جمہوریت کا بنیادی تقاضا یعنی مقامی حکومتوں کا نظام رائج کرنا کسی کی بھی ترجیح نہیں۔ ایسے میں بیڈ گورنس ہے یا کرپشن کی دہائی کے سوا کم ہی کچھ سنائی دیتا ہے ۔ سیاست دان ایک دوسرے کو بدعنوان ثابت کرنے میں مشغول ہے ، ہر کوئی کہہ رہا کہ فلاں بھی بدعنوان ہے پہلے اس کا احتساب کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میںہم جمہوریت سے کیونکر توقع رکھیں جب سیاسی جماعتیں اپنے کردار سازی پر توجہ دینے کو تیار نہیں ۔ جمہوری نظام اور اخلاقی قدروں کو چولی دامن کا ساتھ ہے۔مغربی دنیا میں یہ تصور کرنا ہی مشکل ہے کہ کوئی سیاست دان یا پارٹی بدعنوان عناصر کی پناہ گاہ کا کام کرے اور پھر اسے لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو۔
مسلم لیگ ن کے لیے بہت بہتر ہوتا کہ وہ سابق وزیر اعظم کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ وہ عدالت عظمی سے نااہل ہونے کے بعد باوقار انداز میں سیاست ہی الگ ہوجاتے ۔ میاںنوازشریف تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوچکے مگر بعض لوگوں کے خیال میں ان کے دل سے اقتدار ہی ہوس جانے کا نام نہیں لے رہی۔آئے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وہ لوگوں کی مشکلات کا تذکرہ کرنے کی بجائے اپنے خلاف جاری عدالتی کاروائی کی دہائی دے رہے۔ یقینا یہ بہت کافی ہے ان کی شخصیت کا قد کاٹھ کم کرنے کے لیے۔ کاش نوازشریف پاکستان اور اس کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدمات اٹھاتے تو وہ سیاست کے ساتھ عوام کے دلوں میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب رہتے۔

Scroll To Top