پی ٹی آئی کا لاہور میں سونامی پلس

zaheer-babar-logo
پاکستان تحریکِ انصاف کا لاہور میں بھرپور جلسہ اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت کرگیا کہ صوبائی درالحکومت کے باسی شریف خاندان کے طرز حکمرانی سے کس حد تک بیزار ہیں۔ کم وبیش 35سال سے دعووں اور وعدوں کو شور تو سنائی دیا مگر حالات یہ ہیں کہ پورا پاکستان اور پنجاب تو دور لاہور میں بھی بنیادی ضروریات زندگی ہر کسی کے لیے میسر نہیں۔ حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2025 اہل لاہور کے لیے پینے کاصاف پانی میسر نہیں ہوگا۔ لاہور کو پیرس بنانے والے خادم اعلی تاحال نکاسی آب کا مسلہ حل نہ کرسکے۔ صوبائی درالحکومت کے باسی باخوبی جانتے ہیں کہ چند گھنٹوں کی بارش کے بعد ہی لاہور کے کئی علاقے تالاب کا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی پذائری میں میاں نوازشریف اور شہبازشریف کے خراب طرز حکمرانی نے نمایاں کردار ادا کیا ۔ یقینا جب کئی دہائیوں سے پانچ دریاوں کی سرزمین پر حکومت کرنے والے تعلیم ، صحت سمیت بنیادی ضروریات زندگی کی فراہم میں ناکام رہیں گے تو اس کا منفی اثر تو پڑے گا ۔ عام انتخابات سے چند مہینے قبل عمران کا مینار پاکستان پر بڑا جلسہ عام بتا رہا کہ کس طرح ن لیگ کی قیادت عوام میں مقبولیت کھو چکی ہے۔ یہ نقطہ اہم ہے کہ طویل عرصہ سے میاں نوازشریف یہ جرات نہیںکرسکے کہ وہ مینار پاکستان میںسرکاری وسائل کے باوجود کوئی کسی بڑے جلسہ کا انعقاد کرڈالیں۔ اب عمران خان کا پیغام بڑ ا واضح ہے کہ اب پاکستان میں دو نہیں ایک پاکستان ہوگا یعنی امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو کم کیا جائیگا۔عمران خان کے خطاب میں اٹھائے جانے والے بنیادی نکات کو پی ٹی آئی سربراہ کی سیاسی زندگی کا نچوڈ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پی ٹی آئی سربراہ نے ہلاکو خان کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا جو حکمران ذاتی اور خاندانی دولت کا ڈھیر لگاتا ہے اور عوام پر خرچ نہیں کرتا بلاشبہ وہ اپنوں اور غیروں دونوں کے غیض وغصب کا نشانہ بنتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے بجا طور پر درست کہا کہ جس معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار ہوں وہ سماج کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا ۔ عمران خان نے اپنے خطاب میںایک بار لوگوںکو یقین دلایا کہ وہ ان کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کپتان کا کہنا تھا کہ وہ خون کے آخری قطرے تھے لوگوں کے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ عمران خان نے تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ دراصل پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھا۔ پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف اس عظیم مقصد کو فراموش کرچکے جس کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے الگ وطن اس لیے نہیں حاصل کیا تھا کہ یہاں مخصوص طبقہ خود کو قانون سے بالاتر ہوکر نسل درنسل حکمران بن جائے۔
عمران خان نے اپنے خطاب میں بجا طور پر خارجہ پالیسی کو بھی ہدف بنایا ، ان کا کہنا تھا کہ تمام تر قربانیوں کے باوجود پاکستان کی دنیا بھر میں عزت نہ ہونا اہل اقتدار کی بڑی ناکامی ہے۔ کپتان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کی امریکہ میں تلاشی لیا جانا شرمناک ہے مگر حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا غلط نہیںکہ چند دہائیوں قبل تک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا نظام آج کیوں بوسیدہ ہوچکا اسی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہل اقتدار نہ سسٹم کو اپنے ذاتی اور گروہی مفاد کے لیے استمال کرنا شروع کردیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں احتساب سے گبھرانا بتا رہا کہ حکمرانوں کے مالی معاملات میں کسی طور پر شفافیت نہیں تھی ۔ کپتان کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف صرف اور صرف عدلیہ کو اس بنا پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ان سے حساب لیا جارہا ہے۔ عمران خان کا اہل لاہور کا شکریہ ادا کرنا اس لحاظ سے قابل غور ہے کہ میاں نوازشریف چند ہفتے قبل پی ٹی آئی سربراہ کو طعنہ دے چکے کہ پہلے وہ مینار پاکستان پر جلسہ کرتے تھے اب چھوٹے چھوٹے شہروں میں کرتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے ایک بار اس چیلنج کو قبول کیا اور پنجاب کے دل لاہور میں تاریخی جلسہ کردکھایا۔
سیاسی پنڈت تسلیم کررہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے لاہور میں کامیاب شو کرکے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ پنجاب میں اب بھی قابل زکر سیاسی حمایت رکھتی ہے جو بدستور مسلم لیگ ن کے لیے بڑا سیاسی خطرہ ہے ۔ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات ہر گزرتے دن کے ساتھ اہمیت اختیار کرتے جارہے ۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس انتخاب کے نتیجے میں قوم میں واضح طور پر تقسیم نظر آئے گی یعنی ایک طرف وہ ہونگے جو یہاں روایتی سیاسی طور طریقوں سے کام چلانا چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب عمران خان کی قیادت میں وہ ہیں جو حقیقی معنوں میں یہاں امن ، ترقی اور انصاف کا حصول چاہتے ہیں۔
وطن عزیز کی جمہوریت ابھی پختگی کی منازل طے کررہی ۔ ٹھیک کہاجاتا ہے کہ ارض وطن میں حقیقی جمہوریت کا سورج تب ہی طلوع ہوگا جب عام آدمی کے حقوق کو تحظ ٰدینے والی جماعت برسر اقتدار آئے گی یعنی ایوانوں میں ایسے لوگ ہونگے جو عوام میں سے ہوں ۔ پاکستان تحریک انصاف کا بھی یہی دعوی ہے کہ وہ شرکت اقتدار میں عام پاکستانیوں کو آگے لانے کے لیے کوشاں ہے۔

Scroll To Top