اقتدار کی جنگ اور ضمیر کی قربانی 30-03-2013

kal-ki-baat

ایک زمانہ تھا جب میاں نواز شریف کا اوڑھنا بچھونا اسلام تھا ۔ وہ مردِ مومن اور مردِحق کے پرجوش شیدائیوں میں اولین مرتبہ رکھتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ اپنے دوسرے عہدِاقتدار میں جب ان کے پاس بہت ہی زیادہ بھاری مینڈیٹ تھا تو انہوں نے آئین میں ترمیم کر کے اسلامی خلافت قائم کر نے اور اپنے آپ کو امیرالمومنین قرار دلوانے کے بارے میں بھی سوچا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس قیاس میں مبالغہ ہو لیکن اسلام پسندی میاں نواز شریف کے سیاسی خمیر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

اور ایک زمانہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی نگران وزیراعظم کی حیثیت سے اور کسی کے نہیں محترمہ عاصمہ جہانگیر کے نام کے بارے میں سوچا۔
بات صرف یہاں تک ہی محدود نہیں رہی میاں صاحب نے اپنے صوبے کی وزارت اعلیٰ جناب نجم سیٹھی کی جھولی میں ڈالنے میں بھی کسی تامل سے کام نہیں لیا ۔
کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے مشیروں میں سیفما کے سارے کرتا دھرتا بھی خاص عمل دخل رکھتے ہیں ۔
تو کیا پاور پالیٹکس یا اقتدار کی جنگ میں آدمی کے نظریات کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔؟
اصل حقائق کیا ہیں اس کا علم تو آنے والے وقتوں میںہی ہو گا ، مگر جو کچھ اب تک زمین پر نظر آیا ہے وہ ہمارے ”سرپرست“ اور” دوست “ملک امریکہ کی منشا کے عین مطابق ہے۔۔۔
خدا ہمارا حامی اور ناصر رہے !

Scroll To Top