کُل آپشنز چار ہیں ان میں سے دو فوج اور عمران خان ہیں

aaj-ki-baat-new

میری حقیر رائے میں ہمارا نعرہ ہمیشہ یہی رہنا چاہئے کہ ہم پاکستان کو پاکستان بنائیں گے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کو پاکستان بنانے کے لئے ضروری ہوگا کہ ایسے تمام عوامل کا خاتمہ کیا جائے جو اس نظریے سے ٹکراتے ہیں جس کا پرچم اٹھا کر بانیانِ پاکستان نے اس مملکت کا قیام عمل میں لایا تھا۔

پاکستان دو نہیں ایک۔۔
یہ نعرہ ابہام پیدا کر سکتا ہے۔ جس نعرے کو سمجھانے کی ضرورت پیش آئے اسے کیوں اختیار کیا جائے؟۔بات تو یہ کہی جانی مقصود ہے کہ ہم پاکستان کو اپنے نظریے کے مطابق ایسی مملکت بنائیں گے جہاں غریب اتنا غریب نہ ہو کہ اپنے آپ کو غریب سمجھے اور امیر اتنا امیر نہ ہو کہ اپنی امارت پر ناز کرے۔ غریب اور امیر کے درمیان فرق مٹانا ہی ریاست مدینہ کا امتیاز تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی ریاست قائم ہوئی تھی جس میں غریب کو با اختیار بنایا گیا تھا۔غریب کی غریبی اسی وقت ختم ہو جاتی ہے جس وقت اسے اختیار مل جاتا ہے۔ حضرت بلال حبشیؓ ایک غلام تھے۔ انہیں اپنی غربت میں جو اختیار ملا وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں۔
ریاست مدینہ ہی پاکستان کے لئے رول ماڈل تھی اور ہے۔ عمران خان نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپناہاد ی¿ عظیم اور رہبر اول تو قرار دیا ہے اور یہ بھی بارہا کہا ہے کہ ان کے تصور میں ریاست ِ مدینہ جیسا ہی پاکستان انگڑائیاں لیتا رہتا ہے لیکن وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہوں گے کہ ان کے اردگرد جو ہجوم ہے اُن میں بہت سے عبداللہ بن ابی بھی ہیں۔۔ اگر وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں تو وہ اُن پر یعنی اپنے اردگرد کے موقع پرست منافقین پر حاوی رہیں گے اور ان کے لئے اپنے اہداف کے حصول کا راستہ نکالنا مشکل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ بات بہرحال ایک بڑی حقیقت ہے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُن رجالِ باکمال کو اپنا حلیف بنایا جو ان کے بدترین مخالف تھے۔ ٹیمیں آسمانوں سے نہیں اترتیں، بنائی جاتی ہیں۔
میری دعا ہے کہ عمران خان اپنے بیان کردہ اہداف کے ساتھ سچی وابستگی رکھتے ہوں اور ان کے حصول کے لئے ان کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہو۔۔کیوں کہ ہمارے سامنے کل چار آپشنز ہیں ایک آپشن تو نون لیگ ہی ہے جو بدقسمتی سے اپنے بانی اور پروپرائٹر کی باندی بن کر رہ گئی ہے۔ میاں صاحب کا آپشن عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔
دوسرا آپشن پی پی پی ہے۔ اس آپشن کے ساتھ ہی آصف علی زرداری کا نام ذہن میں آتا ہے ۔۔ اس لئے اِس آپشن پر بھی غور نہیں کیا جاسکتا۔
باقی دو آپشنز عمران خان اور فوج ہیں۔ میرا ذاتی چوائس یہ ہے کہ یہ دو آپشنز ہاتھ میں ہاتھ دے کر پاکستان کو طوفانوں میں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز کریں۔اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ماضی کو دفن کرنے اور مستقبل کو لبیک کہنے کے لئے نکلیں۔۔۔

Scroll To Top