اگرہم بدعنوان ہوتے ۔۔۔۔؟  28-03-2013

kal-ki-baat
عوامی نمائندگی کا دم بھرنے والے 284اکابرین پی ٹی سی ایل کے نادہندہ نکلے ہیں۔ ان نادہندگان کی فہرست پی ٹی سی ایل نے الیکشن کمیشن کو فراہم کی ہے۔ اس فہرست میں ایسے ایسے ”ناصح“ اور ” مصلح “ موجود ہیں کہ چند لمحوں کے لئے اس فہرست کے درست ہونے پر شک گزرتا ہے۔
یوٹیلٹی بل ادا نہ کرنا وطنِ عزیز میں ” شیوہ ءمردانگی “ سمجھا جاتا ہے۔ اگر کہیں کوئی خبر اس ضمن میں شائع ہوجاتی ہے تو ہمارے اکابرین سیخ پا ہوجایا کرتے ہیں۔
جو284عوامی نمائندگان پی ٹی سی ایل کے نادہندہ قرار پائے ہیں وہ اپنے ” نام “ کلیئر کرانے میں تاخیر نہیں برتیں گے کیوں کہ معاملہ زیادہ سے زیادہ چند ہزاروں یا لاکھوں کا ہوگا۔
لیکن کیا صرف پی ٹی سی ایل ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے بل ہڑپ ہوتے ہوں گے ۔؟ بجلی کے بل بھی ہوں گے گیس کے بل بھی ہوں گے۔ اورجہاں تک ٹیکسوں کا تعلق ہے وہ تو بقول ہمارے عوامی نمائندگان کے` خود بخود ادا ہو جایا کرتے ہیں۔ انہیں خود جاکر فارم پُر کرکے ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
میر ی نظروں سے اس ضمن میں چیف جسٹس صاحب کا یہ ایمان افروز بیان گزرا ہے کہ ”بدعنوانوں کو اب اسمبلیوں میں نہیں جانے دیں گے۔“
خدا چیف جسٹس صاحب کی زبان مبارک کرے۔ ورنہ اس ملک میں کوئی بھی بدعنوان ایسانہیں جو خود کو بدعنوان سمجھتا ہو۔ اُن سب کی ایک ہی دلیل ہوتی ہے۔۔۔
” اگر ہم بدعنوان ہوتے تو عوام ہمیں ووٹ کیوں دیتے ؟“

Scroll To Top