عدلیہ اور چیف جسٹس کو دھمکی وزیرداخلہ نے ` ایک ڈان نے یا پھرگاڈفادر کے ایک وفادار کارندے نے دی ہے ؟

aaj-ki-baat-new

چوہدری احسن اقبال کو ڈان آف نارووال کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ میں انہیں ایک محنتی ذہین اور پڑھے لکھے مارکیٹنگ آفیسر کے طو ر پر جانتاہوں۔۔۔ میری پہلی ملاقات اُن سے 1987ءمیں ہوئی تھی جب وہ گھی کارپوریشن آف پاکستان میں ڈپٹی مارکیٹنگ منیجر تھے۔۔۔ ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر معیزالدین نے انہیں اپنے کمرے میں بلا کر مجھ سے ملایا تھا۔۔۔ میرے ذہن میں ان کا جو امیج بنا وہ ایک شریف معزز مگر ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی امنگ رکھنے والے نوجوان کا بنا۔۔۔ جب جنرل ضیاءالحق مرحوم اچانک ایک حادثے کا شکار ہوگئے اور ملکی معاملات کے دروازے سیاست اور سیاسی جوڑ توڑ پر کھل گئے تو مجھے یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ احسن اقبال میاں نوازشریف کے کیمپ میں بھرتی ہوگئے ہیں۔۔۔
آج وہ ملک کے وزیرداخلہ ہیں اور ان کے ہاتھوں میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور وطنِ عزیز کے عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔۔۔
ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری اس امیج کے ساتھ ٹکراتی ہے جو ” ڈان آف نارووال “ کی ترکیب کے ساتھ ذہن میں ابھرتا ہے۔۔۔ موجودہ حالات میں ” ڈان آف نارووال “کے امیج کے ساتھ انصاف کرنا ان کی مجبوری اس لئے بن چکی ہے کہ ان کی پارٹی کے قائد مافیاکے مستند گاڈفادر قرار پا چکے ہیں۔۔۔ میں اس بحث میں نہیں پڑوں گاکہ قائداعظم ؒ کی جماعت پر قبضہ کرنے والوں نے اسے غنڈوں اور بدمعاشوں کی آما جگاہ کب بنایا لیکن جن لوگوں کو ماڈل ٹاﺅن لاہور میں17جون 2016ءکو کھیلی جانے والی خون کی ہولی یاد ہے اور جن کے ذہن پر سے گلو بٹ کی تصویر کبھی زائل نہیں ہوسکے گی وہ اس حقیقت کو جھٹلا نہیں پائیں گے کہ مسلم لیگ (ن)کے ساتھ مافیا مائنڈ سیٹ چپک چکا ہے۔۔۔اس مائنڈسیٹ کی تازہ ترین عکاسی گزشتہ شب ہوئی ہے جب ” نامعلوم “ غنڈوں اور بدمعاشوں نے ” حکومتی سرپرستی “ میں لاہور کے اندر لگائے گئے تحریک انصاف کے پوسٹراوربینر پھاڑ اور اکھاڑ پھینکے۔۔۔ قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی ذمہ داری کے حامل وزیر داخلہ احسن اقبال کو اپنی حکومت اور اپنی جماعت کی اس ” کارگزاری “ کا اگر علم نہیں تو پھر انہوں نے کس منہ سے چیف جسٹس آف پاکستان سے مخاطب ہو کر کہا ۔۔۔ ” اگر تم۔۔۔ ججوں کو ۔۔۔اپنی توہین کا اتنا خیال ہے تو توہین ہماری بھی تم لوگ کرتے رہتے ہو۔۔۔ پاکستان اگر فوجیوں اور ججوں کے سینوں میں دھڑکتا ہے تو ہمارے سینوں میں بھی دھڑکتا ہے۔۔۔ ہمارے پیمانہ ءصبر کو لبریز ہونے مت دو۔۔۔ ہم لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مجبور ہو کر ۔۔۔۔۔۔“
میں نہیں جانتا کہ عدلیہ کو عموماً اور چیف جسٹس کو خصوصاً یہ دھمکی وزیر داخلہ نے دی ہے` گاڈفادر کے ایک وفادار کا رندے نے دی ہے یا ڈان آف نارووال نے دی ہے لیکن اس دھمکی کے ساتھ انہوں نے سیاست دانوں کے ” باعزت “ ہونے کاجو ذکر نہایت جذباتی انداز میں کیا ہے اس پرتبصرہ ضرور کروں گا۔۔۔
جناب احسن اقبال ۔۔۔ کیا آپ ہمیں یہ بتا سکتے ہیں کہ سیاست دان ہے کس بلا کا نام۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ ڈاکٹر اسے کہتے ہیں جو علاج معالجے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نکلے۔۔۔ انجینئر اسے کہتے ہیں جو انجینئرنگ کے کسی نہ کسی شعبے کی اعلیٰ ڈگری رکھتا ہو۔۔۔ جج اسے کہتے ہیں جو قانون کی اعلی تعلیم حاصل کرکے مختلف مراحل طے کرنے کے بعد ” مسندِ انصاف “ تک پہنچے۔۔۔ جنرل اسے کہتے ہیں جو نوجوانی میں کیڈٹ کے طور پر بھرتی ہو اور برسہا برس فوجی تعلیم اور تربیت حاصل کرنے کے بعد کمانڈر بنے۔۔۔
ہر شعبے میں مقام اور عزت حاصل کرنے کے لئے تعلیم اور تربیت بنیادی شرائط ہیں۔۔۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ سیاست دان کس اکیڈمی میں پیدا ہوتے ہیں۔۔۔؟
یہ ” ووٹ کو عزت دو “ والی بات خود بتاتی ہے کہ آپ عزت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔۔۔ آپ کو عزت صرف ووٹ حاصل کرکے نہیں ملے گی۔۔۔ آپ کو اپنی قابلیت اور کارکردگی کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ سیاست دان صرف جھوٹ نعرے بازی اور ریاکاری کے شعبوں میں مہارت نہیں رکھتے ان کے اندر امورو معاملاتِ مملکت چلانے کی بھرپوراور مستند صلاحیت بھی موجود ہے۔۔۔

Scroll To Top