ایک اور وفاقی وزیر بھی اقامہ رکھتا ہے ؟

zaheer-babar-logo

اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کو اقامہ رکھنے کے معاملے پر آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا ۔فاضل عدالت نے یہ متفقہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن عثمان ڈار کی درخواست پر دیا۔ عثمان ڈار کو 2013 کے انتخابات میں خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کی اور 10 اپریل کو سماعت کی تکمیل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔اس سلسلے میں اہم یہ رہا کہ حال ہی میں عدالت عظمی نے ایک فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کرتے ہوئے اس شق کے تحت ہونے والی نااہلی کو تاحیات قرار دے ڈالا ۔ تازہ پیش رفت میں جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے سنہ2013 میں ہونے والے انتخابات میں کاغذات نامزدگی میں دبئی میں ملازمت کو جان بوجھ کر چھپایا ۔ خواجہ آصف کا دبئی کی تین مختلف کمپنیوں کے ساتھ ہونے والامعاہدے تھے۔عدالت کے مطابق خواجہ آصف نے جان بوجھ کر نوکری اور تنخواہ ظاہر نہ کی۔عدالتی فیصلے کے مطابق خواجہ آصف وکیل بھی ہیں اس لیے انھیں بخوبی علم ہوگا کہ انھوں نے کون سے حقائق کاغذات نامزدگی میں چھپائے ۔“
افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت میں اہم عہدوں پر ایسی شخصیات کو لگایا گیا جو بعض عرب ممالک میں ملازمت کررہی ہیں۔ یہ پورے ملک کے لیے باعث شرم ہے کہ اہم سرکاری زمہ داری ہونے کے باوجود کوئی شخص کسی غیر ملکی کمپنی ک اقامہ رکھتا ہو۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وفاقی کابینہ کے اور اہم وزیر بھی اقامہ رکھتے ہیں جن کا معاملہ جلد سامنے آسکتا ہے۔ اب ثابت ہوچکا کہ خواجہ آصف نے کافی عرصے سے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا لہذا اس اقدام سے خواجہ آصف سنہ 2013 میں ہونے والے انتخابات میں بھی حصہ لینے کے اہل نہیں تھے۔
درحقیقت خواجہ آصف کے خلاف اقامہ رکھنے کا الزام ثابت ہونے کے بعد قومی سطح پر ایک بار پھر یہ تاثر ابھرا ہے کہ یہاں کے بڑے نام مال بنانے کے بدترین عمل میںمصروف ہیں لہذا ان ”رہنماوں کو اس کی کوئی غرض نہیں کہ ان کی قومی زمہ داریاں کیا ہیں۔ ڈھٹائی کا اندازہ یوں لگایا جائے کہ میاں نوازشریف تاحال ندامت کا اظہار نہیں کررہے کہ وہ تیسری مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود اپنی جیب میں اقامہ رکھتے تھے۔
وطن عزیز کی سیاست میںاخلاقیات کی بالادستی کیسے آئے گی یہ بڑا سوال ہے۔ بعض اہل فکر ونظر کے نزدیک جب تک سماجی میں بہتری نہیں آئے گی اس وقت تک سیاست اخلاقیات سے تہی دامن ہی رہے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنےحالیہ فیصلے میں یہ بات وضاحت سے کی گی کہ اگر اس طرح کے معاملے پارلیمنٹ کی بجائے عدالتوں میں ہوں گے تو پھر عدالتیں قانون کے مطابق ہی فیصلہ دیں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ خواجہ آصف اس وقت ایک غیرملکی کمپنی میں کل وقتی ملازم تھے جب وہ وفاقی کابینہ میں اہم عہدے تھے چنانچے اس سے مفادات کا ٹکرا واضح ہے، صرف اسی بنا پر ہی انھیں نااہل کیا جا سکتا ہے۔یقینا ثابت ہوا کہ اپنے ان اقدامات سے خواجہ آصف نے اس حلف سے روگردانی کی جو انھوں نے بطور رکنِ اسمبلی اور وزیر اٹھایا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے آخر میں کہا گیا ہے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کسی بھی عدالت کے لیے خوشی کا موقع نہیں ہوتا جب کوئی منتخب نمائندہ نااہل ہو۔ جب سیاسی قوتیں سیاسی سطح پر مسئلہ حل کرنے کی بجائے عدالت کا رخ کرتی ہیں تو اس کے اثرات اداروں پر بھی ہوتے ہیں اور عوام پر بھی۔
ملکی سیاست ایک اہم دور سے گزر رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان لوگوں پر زمین تنگ ہورہی ہے جو سیاست میں مخصوص مفادات کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں ۔ اس صورت حال میںقطعی طور پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، سمجھ لینا چاہے کہ جمہوریت احتساب کا دوسرا نام ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ اپنی زمہ داریاں ادا نہیں کریں گی تو عدالتوں کو اپنا کردار ادا کرنے سے کسی طور پر روکا نہیں جاسکتا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کی نااہلی کے فیصلے میں جس طرح سیاسی قیادت کو اپنی زمہ داریاں ادا کرنے کی جانب اشارہ کیا وہ بجا طور پر فاضل ججز کے احساس زمہ داری کو نمایاں ثبوت ہے۔ درحقیقت سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف سے یہ توقع کرنا غلط نہ تھا کہ وہ اپنے مخصوص سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچیں گے مگر افسوس ایسا نہ ہو۔ تاحال ان کی جانب سے اپنی نااہلی کے فیصلے کو قبول نہ کرنا ملک میں اعلی جمہوری قدروں کے فروغ کی خواہش کرنے والوں کو مایوس کررہا۔جمہوریت عوام کی خدمت کا نام ہے ، یہ سمجھنے کے لیے سقراط ہونا لازم نہیں کہ اگر سیاست دانوں کی قابل زکر تعداد ملک کے اندر اور باہر کروڈوں کو اربوں اور اربوں کو کھربوں بنانے کے لیے کوشاں رہیں گی تو پھر عوامی مسائل حل کرنے کی امید ترک کردینی چاہے۔ دوہزار اٹھارہ انتخابات سر پر آچکے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ان وفاقی اورصوبائی اسمبلیوںکے لیے ان لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دیں جو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔

Scroll To Top