”اللہ کرے کہ آج رات تم سوﺅ تو صبح تم اپنے بستر میں مردہ پائے جاﺅ۔۔۔“

aaj-ki-baat-new
ایک مجرم جو محسوس کرتا ہو کہ وہ بڑی تیزی کے ساتھ مکافات عمل کی طرف بڑھ رہا ہے ` اس کی آخری امید یہ ہوتی ہے کہ کچھ ایسا ہو کہ اس کے جرم یا جرائم کے تمام ثبوت مٹ جائیں یا جو لوگ ثبوتوں کا سراغ لگا چکے ہیں یا لگا رہے ہیں ان کا حافظہ ان سے چھن جائے اور انہیں یہ بھی یاد نہ رہے کہ ان کا اپنا نام کیا ہے۔۔۔
23اپریل کو احتساب عدالت میں ہونے والی کارروائی کے بعد میاں نوازشریف نے میڈیا سے جو باتیں کیں وہ ایک ایسے ہی شخص کی ذہنی کیفیت کی آئینہ دار تھیں جو ڈوبتی کشتی میں سوار ہو اور جسے اپنے انجام سے بچنے کے لئے کسی معجزے کا انتظار ہو۔۔۔
میاں نوازشریف کے لئے معجز ہ یہ ہوسکتا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے حافظے سے محروم ہوجائیں اور کسی روز صبح اٹھ کر احتساب عدالت کے جج بشیر صاحب کو فون کریں کہ ” تم کس قانون کے تحت ملک کے وزیراعظم پر مقدمہ چلا رہے ہو ؟ تمہیں معلوم نہیں کہ یہ کروڑوں ووٹوں کے طاقت کے بل بوتے پر وزیراعظم بنے ہیں ۔۔۔؟“
اگر ایسا معجزہ ہوجائے تو جج بشیر صاحب بدحواس ہو کر جواب دیں گے ۔۔۔” حضور یہ اب وزیراعظم نہیں ہیں۔۔۔ انہیں آپ کے مقرر کردہ پانچ جج نا اہل قرا ر دے چکے ہیں اور ہمارے سامنے ایسے ٹھوس ثبوت آچکے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوںنے ملک کا قانون اور عوام کا اعتماد توڑ کر بڑے خوفناک مالی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔۔۔“
” تمہیں اپنے ملک کے وزیراعظم اور عوام کے محبوب لیڈر پر بہتان تراشی کرتے شرم نہیں آتی۔۔۔؟“ یادداشت سے محروم ہوجانے والے جسٹس ثاقب نثار کا جواب کچھ ایسا ہی ہوگا۔۔۔“ اور وہ پانچ جج کون ہیں جنہوں نے ہمارے دل کے وزیراعظم کے دامن کی پاکی کو جھوٹ کے چھینٹوں سے داغدار کیا ہے ۔۔۔؟“
میاں نوازشریف کا المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے معجزے صرف فلموں میں دکھائے جاتے ہیں۔۔۔
پاناماکیس کے جتنے بھی کردار ہیں ان میں سے کوئی بھی حافظہ کھوتا دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔ پاناما بنچ کے پانچ جج ہوں۔۔۔ یا پاناما جے آئی ٹی کے چھ اراکین ہوں۔۔۔ یا احتساب عدالت کے جج بشیر ہوں۔۔۔ کسی کا بھی حافظہ ایک منٹ کے لئے بھی کمزور پڑنے کا نام نہیں لے رہا۔۔۔ جہاں تک چیف جسٹس کا تعلق ہے ان کا نہ صرف یہ کہ حافظہ تیز ہوا ہے بلکہ ان کے لب و لہجے میں بھی تیزی آگئی ہے۔۔۔
ایسے میں اگر میاں صاحب کا اندر چیخ چیخ کر یہ نہ کہے تو اور کیا کہے کہ ” اوئے ججو۔۔۔ تمہیں موت کیوں نہیں آجاتی ؟ کیوں ہاتھ دھوکر میرے اور میری دولت کے پیچھے پڑ گئے ہو۔۔۔؟ کیا بگاڑا ہے میں نے تم میں سے کسی کا ؟ کیوں حسد کرتے ہو مجھ سے ؟ کیوں انتقام نے تمہیں اندھا کردیا ہے۔۔۔؟ یہ دولت مجھے اور میرے خاندان کو خدا نے دی ہے اور تم خدا کی منشاءکو روند کر چین کی نیند نہیں سو سکو گے۔۔۔ اللہ کرے کہ آج رات تم سوﺅ تو صبح تم اپنے بستر میں مردہ پائے جاﺅ۔۔۔“
میرا خیال ہے کہ میاں صاحب کی بددعاﺅں کا زیادہ رخ چیف جسٹس صاحب اور واجد ضیاءکی طرف ہوگا۔۔۔

Scroll To Top