کوئٹہ میں پھر دہشت گردی

zaheer-babar-logo
بلوچستان کے صوبائی درالحکومت کے دو مختلف علاقوں میں تین خودکش حملے بتار رہے کہ قیام امن کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان چوتھا اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بلوچستان کی منفرد محلِ وقوع کے باعث اس کی جغرافیائی اہمیت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارا یہ صوبہ درحقیقت مغرب کو مشرق سے ملانے اور وسط ایشیا کے ذخائرِ توانائی کو مغربی منڈیوں تک پہنچانے کا مختصر راستہ فراہم کررہا۔ بلوچستان کی طویل سرحدیں افغانستان اور ایران کے ساتھ ملتی ہیں۔ قدرت نے سرزمینِ بلوچستان کو بے بہا معدنی دولت اور وسائلِ حیات سے سرفراز کیا ہے۔
بلوچستان میں بیرونی مداخلت کوئی راز نہیں رہا۔ یہ مسئلہ عوام اور سیاسی جماعتوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے تاریخی و جغرافیائی تجزیے کے دوران بیرونی مداخلت کے ضمن میں امریکا، بھارت، روس اور دیگر ہمسایہ ملکوں کا لیا جاتا ہے۔ ہر ایک مداخلت کے لیے جواز کے طور پر کئی عوامل بھی پیش کیے جاتے ہیں، البتہ امریکا و بھارت کی مداخلت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ ۔ امریکا خطے میں چین کے اثرورسوخ کو برداشت نہیں کرسکتا اور بھارت کی ازلی دشمنی کا اظہار ناروا مداخلت کی صورت میں ظاہر ہوتا رہتا ہے ۔ تاہم، کچھ حلقوں کا تجزیہ ہے کہ گوادر پورٹ کی فعالیت سے چاہ بہار، بندرعباس اور دبئی کی بندرگاہیں غیرموثر ہونے کا امکان موجود ہے جس کے لیے متبادل حکمت عملی پر عمل کیا جارہا ۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے مقصد سے انحراف کررہے یعنی استحکامِ پاکستان کی اساس و بنیاد اسلام ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر ہی بنا تھا ، اس مملکت کے حصول کے لیے لوگوں نے عظیم قربانیاں دی تھیں لہذا اگر نظریہ پاکستان کو بنیاد نہ بنایا جائے تو پھر اس ملک کی یک جہتی، استحکام اور سالمیت خطرے میں پڑسکتی ہے۔ یعنی اس کے نتیجے میں قومیت، علاقائیت، عصبیت اور لسانیت کو فروغ ملے گا اور ملکی استحکام کی مشترکہ اساس منہدم ہوکر رہ جائے گی۔ پھر ہر قومیت اور ہرصوبہ اپنے مفادات کو ترجیح دے گا اور مقدم رکھے گا۔ بلوچستان کی پریشان کن صورت حال کا تقاضا ہے کہ اسلام اور نظری پاکستان کی فکر کا احیا کیا جائے اور لوگوں کو مشترکہ اساس کی جانب توجہ دلائی جائے۔ بلوچستان میں حالات بہتر بنانے کے لیے لازم ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات کو علاقے کے عوام تک پہنچانے کا بندوبست ہو۔ اس کے لیے معدنی وسائل کو دریافت کرنے اور ترقی دینے والی کمپنیوں سے جو معاہدے کیے جائیں، ان میں قومی مفادات کو ملحوظ رکھا جائے اور اپنی دولت غیرملکی کمپنیوں کے حوالے نہ کی جائے، بلوچستان کی ترقی اور تعلیم و صحت اوردوسری سہولتوں کو عوام تک پہنچانے میں استعمال کی جائے۔بلوچستان میں تعلیم صحت پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی وغیرہ کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور ملازمتوں پر مقامی آبادی اور صوبے کے لوگوں کو ترجیح دی جائے مگر یہ سب کام میرٹ کی بنیاد پر انجام دینے کے لیے مقامی آبادی کی تعلیم پیشہ ورانہ تربیت اور ہنر سکھانے کا انتظام کیا جائے۔سمجھ لینا چاہے کہ دشمن تاک میں ہے وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ایسی پالیسوں پر کاربند ہے جس کے نتیجے میں صوبے میں بدامنی کا کسی صورت خاتمہ نہ ہو ، دہشت گردی کی تازہ کاروائی اس کی بدترین پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وطن عزیز کو سیاسی ، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی کا معاملہ درپیش ہے۔ دور اور نزدیک کا دشمن سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یہاں غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کے درپے ہے۔ صوبائی دارلحکومت میں تین خود کش حملے بتا رہے کہ تاحال کوئٹہ محفوظ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں کوئٹہ مسلسل بدامنی کا شکار ہے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ مقبوضہ کشمیر اور کابل میں ان دنوں حالات مسلسل خراب ہیں لہذا دشمن یہ تاثر دے رہا ہوکہ کوئٹہ کے حالات بھی اچھے نہیں۔
حالات کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتفاق واتحاد کو فروغ دیں۔ سیاسی اور مذہبی قوتیں باہمی تعاون کے نتیجے میں ان قوتوں کے عزائم خاک میں ملا دیں جو پاکستان اور اس کے باسیوں سے دشمن نبھانے کو کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔ مقام شکر ہے کہ ملکی سیکورٹی فورسز اور عوام نے بے مثال قربانیاں دے کر سماج دشمن عناصر کو بدترین شکست سے دوچار کیا ہے۔ یقینا اب بھی ایسے گروہ ہی جو کسی نہ کسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر کشت وخون کی کوئی کاروائی کرجاتے ہیںمگر عممومی طور پر حالات کنڑول میں ہیں۔
دراصل پاکستان کو جس دشمن کا سامنا ہے اس کے مقابلے میں مکمل جیت کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ سب سے بڑھ کر جو کام ہمیں کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ان پسماندہ علاقوں کی مشکلات فوری طور پر حل کرنی ہیں جو سالوں سے نہیںدہائیوں سے انتظار کررہے۔ عصر حاضر میں جنگ کا طریقہ کار بدل چکا۔ آج ایک دوسرے پر حملے کرنے کی بجائے حریف ریاستوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ تسلیم کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے۔ ہمارے وسائل بھی محدود ہیں ،ایسا ممکن نہیںکہ فوری طور پر خبیر تا کراچی مسائل حل کرلیے جائیں مگر ہمارے زمہ داروں کو مسقل مزاجی اور اخلاصی سے مشکلات پر قابو پانے کی کوشش جاری رکھنا ہوگی۔ بلوچستان کی اہمیت مسلمہ ہے۔ گودار کی بندرگار کے سبب علاقائی اور عالمی طاقتیں ہمارے لیے مشکلات پیدا کررہیں ایسے میں کسی قسم کی کوتاہی سے ممکن حد تک اجتناب برتنا ہوگا تاکہ درپیش چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا جاسکے۔

_

Scroll To Top