جب آج کی داستانیں کھل کر سامنے آئیں گی۔۔۔! 25-11-2009

اس کہانی کو آگے بڑھانے میں میں بھی شریک رہا ہوں کہ ملک کو مارشل لاءنافذ کرنے والے فوجی حکمرانوں نے تباہ کیا۔ یہ کہانی ہمارے سیاست دانوں کی پسندیدہ کہانی ہے۔ ہمارے روشن خیال اور جمہوریت پسند صحافیوں میں بھی یہ کہانی بڑی مقبول ہے۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ سول حکومتوں کا تختہ الٹ کر فوجی حکمران جب بھی برسراقتدار آئے قوم کی بہت بڑی اکثریت نے انہیں خوش آمدید کہا۔ جب جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تھا تو لوگوں نے باقاعدہ جشن بھی منائے تھے۔ جشن منانے والوں میں خود میں بھی شامل تھا۔ تب میں بی اے کا طالب علم تھا اور سوچوں میں ہر وقت ایک ہی آواز گونجا کرتی تھی۔
انقلاب!
تب انقلاب کا کوئی اور راستہ ملک میں ہمیں نظر ہی نہیں آتا تھا سوائے فوجی مداخلت کے ۔
دور دور تک کوئی ایسی نظریاتی جدوجہد یا عوامی تحریک نظر نہیں آتی تھی جو اتنا زور پکڑ سکے کہ حکومت وقت اس کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔
انقلاب کا خواب وہاں دیکھا جاتا ہے جہاں ” حکومت وقت “ برائی کی علامت بن جائے۔ اور یہ خواب ہم 1951ءکے بعد مسلسل دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ دلچسپ بات یہاں یہ ہے کہ جب انقلاب کے پیامبر بن کر اقتدار پر قابض ہونے والے فوجی آمر ” حکومت وقت “ بنے تو انہیں بھی برائی کی علامت بننے میں زیادہ عرصہ نہیں لگا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری ہر ” حکومت وقت “ برائی کی علامت بنتی رہی ہے۔ ہم نے فوجی حکمرانوں کو خوش آمدید اس امید پر کہا کہ شاید وہ ” برائی “ کا قلع قمع کرڈالیں گے۔ اور ان کے خلاف اس لئے ہوگئے کہ برائی تو بدستور پھلتی پھولتی رہی لیکن ہمارے ”حقوق “ غصب ہوگئے۔
جس ” انقلاب “ کی صدا ہمیں مسحور کرتی رہی وہ نہ تو ہمیں کسی مارشل لاءاور نہ ہی کسی جمہوری حکومت نے دیا۔
مگر بات یہاں میں ایک ایسی کرنا چاہ رہا ہوں جس کا تعلق اس ” کہانی “ سے ہے جس کا ذکر آغاز پر ہوا ہے۔
اگر فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملک کو لوٹا تو ان کی دولت کہاں چلی گئی؟ میں نے گوہر ایوب اور ان کے فرزند عمر ایوب کو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے نہیں دیکھا۔
اگر جنرل یحییٰ خان نے ملک کو لوٹا تو ان کی دولت کہاں گئی۔؟
اگر جنرل ضیاءالحق نے ملک کو لوٹا تو اعجاز الحق شب و روز دنیا کے دورے کرتے نظر کیوں نہیں آتے؟
دولت مندی اپنا اشتہار خود ہوا کرتی ہے۔
میںجنرل پرویز مشرف کے بارے میں کچھ نہیں کہوںگا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنا ” مقدر“ اور اپنی آنے والی نسلوں کا ” مقدر“ سنوار گئے ہوں ۔
لیکن اگر ملک کے دس امیر ترین خاندانوں کا سراغ لگایا جائے تو ان میں کوئی بھی کسی جنرل کا خاندان نہیں ملے گا۔ اور ان میں کم ازکم پانچ خاندان بڑے سیاست دانوں کے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ جتنی کرپشن ہمارے ملک میں 1990ءکی دہائی میں ہوئی وہ باقی پوری تاریخ میں نہیں ہوئی ، تو غلط نہیں ہوگا۔
اگر آپ جنرلوں کے معیار زندگی کوپرکھنا چاہتے ہیں تو عسکری اپارٹمنٹس یا ولاز چکلالہ جائیں۔ اور دیکھیں کہ ان کا معیار زندگی کیسا ہے۔
اور اس کے بعد آپ سیدھے اپنے بڑے سیاستدانوں کے دولت کدوں کا رخ کریں !
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ ہماری سول یا ملٹری بیورو کریسی کی ” کرپشن“ اس کرپشن کا مقابلہ نہیں کرسکتی جو ہمارے سیاستدانوں کے معیار زندگی سے جھلکتی ہے۔
ایسا کیوں ہے کہ سیاسی حکومتوں سے کہیں زیادہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والے فوجی آمر اتنے بڑے پیمانے پر کرپشن نہیں کرپاتے جتنے بڑے پیمانے پر سیاست دان چند ہی مہینوں میں کرگزرتے ہیں۔؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے۔ فوجیوں کو شاید اپنے ” ادارے“ کی عزت کا خیال ہوتا ہے۔ یا ان کی تربیت میں کہیں نہ کہیں اخلاقیات کا دخل ہوتا ہے۔ یا پھر ان میں ہمت اور حوصلے کی کمی ہوتی ہے۔ جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے وہ بہت بڑی انوسٹمنٹ کرکے اقتدار میں آتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہوگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایسے ” کارہائے نمایاں“ کرگزرتے ہیںکہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔
این آر او وغیرہ کے حوالے سے ابھی تو ہم 1990ءکی دہائی کی کرپشن میں اٹکے ہوئے ہیں۔ جب گزشتہ ڈیڑھ برس کی داستانیں کھل کر سامنے آئیں گی تو پتہ نہیں کتنی انگلیاں دانتوں میں دبی کی دبی رہ جائیں گی!

Scroll To Top