ریاست کی سب سے کم ترجیح عدلیہ ہے، تنہا نظام درست نہیں کر سکتا: چیف جسٹس پاکستان

  • 1872 کا قانون تبدیل نہ کیا گیا، عدالتیں نہ بنائی گئیں اور ججز نہ دئیے گئے تو ذمہ دار سپریم کورٹ نہ ہوگی
  • انصاف تول کر دیا جانا چاہیے ،کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، تقریب سے خطاب

پشاور(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ریاست کی سب سے کم ترجیح عدلیہ ہے تو ذمہ دار میں نہیں ، کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے ذمہ داری پوری نہیں کی ،اکیلا نظام درست نہیں کر سکتا ،مسائل حل کرنا تمام ججز کی ذمہ داری ہے ،جسٹس دوست محمد خان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے پوچھا کس دن ریفرنس لینا پسند کریں گے ،ذاتی وجوہات کی بنا پرریفرنس لینے سے انکار کر دیا ،تقریر دکھانے والی بات قطعی غلط ہے ، پھر بھی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرتا ہوں اور ازالہ کرنے کے لیے تیار ہوں ۔جمعرات کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بہت مرتبہ ذکر کرچکا ہوں کہ نظام میں بہت سی مشکلات ہیں، اگر 1872 کا قانون تبدیل نہیں کیا گیا، عدالتیں نہیں بنائی گئیں اور ججز نہیں دئیے گئے تو اس کی ذمہ دار سپریم کورٹ نہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی ہم پر تنقید ہے کہ ہم فیصلے جلد اور قانون کے مطابق نہیں کر رہے، ہمیں اپنا ہاو¿س ان آرڈر کرنا ہے، اکیلے اس نظام کو ٹھیک کرنے کی استطاعت نہیں، مسائل حل کرنا تمام ججز کی ذمہ داری ہے اور جیسے بھی وسائل ہوں گے اس میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بنیادی تبدیلیاں کرنی ہیں اور میں قانون بنانے والا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کرانے والا ہوں، جو سہولیات فراہم کی گئی ہیں انہیں کے تحت کام کر رہے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دفتر نے کئی کیسز پر اعتراضات لگا کراپنے پاس رکھا ہوا تھا، ان کیسز کو سننے یا نہ سننے ست متعلق فیصلہ ججز کو کرنا تھا دفتر کو نہیں، اس طرح کی 225 پٹیشن میرے پاس آئیں جو روزانہ 10،10 کر کے نمٹائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف تول کر دیا جانا چاہیے ،کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم نے مداخلت شروع کر دی ہے، اب ہم بھی ریاست میں آتے ہیں، ججز کی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے، سچ جھوٹ کا فیصلہ کرنا ججز کا کام نہیں۔19 مارچ کو ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد خان کی جانب سے فل کورٹ ریفرنس قبول نہ کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں کے بارے میں چیف جسٹس نے بتایا کہ دوست محمد خان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے پوچھا کس دن ریفرنس لینا پسند کریں گے، انہوں نے کہا ریٹائرمنٹ والے دن لوں گا، لیکن پھر انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ریفرنس لینے سے انکار کردیا، میں نے انہیں فون کیا لیکن انہوں نے فون کا جواب بھی نہ دیا ، اگلے روز جسٹس دوست محمد خان ہم سے ملنے آگئے ،ہم نے ریفرنس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ذاتی مصروفیات ہیں جس کی وجہ سے تقریر تیار نہیں کرسکا ، میں نے انہیں تقریر لکھ کر دینے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا، انہیں ڈنر اور لنچ کی پیش کش کی لیکن انہوں نے اس سے بھی انکار کردیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ اور نہ ہی جسٹس دوست محمد خان نے آج تک وضاحت کی کہ انہوں نے ریفرنس کیوں قبول نہیں کیا، ان کی تقریر دکھانے والی بات قطعی غلط ہے، پھر بھی میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس پر معذرت کرتا ہوں اور ازالہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں مجھ پر الزامات لگائے گئے، بار نے مجھے اتنا گھٹیا، نیچ اور کم ظرف سمجھ لیا کہ اپنے جانے والے دوست اس طرح رخصت کروں گا کہ ساری زندگی اس پر ندامت ہوتی رہے، میں ان سے کبھی تقریر دکھانے کا نہیں کہا۔ جسٹس دوست محمد کل آجائیں انہیں فل کورٹ ریفرنس دینے کے لیے تیار ہوں۔

Scroll To Top