معصوم آصفہ کا خون رنگ لائیگا

zaheer-babar-logoبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی برطانیہ پہنچے تو اس موقع پر سینکڑوں افراد نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بھارت میں جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام نہ کر پانے کا ذمہ دار مودی کو ٹہرایا۔اہم بات یہ ہے کہ مظاہرین ن ٹین ڈاننگ اسٹریٹ اور پارلیمان کے باہر مودی واپس جا کے نعرے لگائے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ہم مودی کے نفرت اور لالچ پر مبنی ایجنڈے کے مخالف ہیں کے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ احتجاج کے دوران یہ بھی کہا گیا مودی بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو ختم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کر رہے۔
دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ریپ کے کیسز باعث فکر ہیں جس سے بھارت کو دنیا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا ہے۔ خواتین کے خلاف جنسی تشدد بھارت میں ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکا ۔ بھارتی وزیر اعظم کے بعقول ملک میں جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے بھارتی عوام کی بڑی تعداد سٹرکوں پر نکل آتی ہے اور سرکار کو عورتوں کو تحفظ فراہم نہ کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔“
بھارتی وزیر اعظم کے دعوے اپنی جگہ مگر زمینی حقائق یہ ہیںکہ بی جے پی سرکار اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کرپا رہی متاثرہ خاندان رنج و الم کا شکار ہیں مگر سرکاری ادارے ان کی داد رسی کرنے میں کسی طور پر کامیاب نہیں ہوپارہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کو وزیر اعظم بنے چار سال ہوچکے مگر عورتوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
حال ہی میں بھارت میں جنسی زیادتی اور قتل کے دو کیسز نے بھارتی عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے ایک آٹھ سالہ مسلمان بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر اسے قتل کر دیا۔ درندگی کا اندازہ یوں کیاجاسکتا ہے کہ منعظم انداز میں زیادتی کرنے والے افراد بچی کو ایک ہفتے تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے تھے۔ اتر پردیش میں بھی مودی کی جماعت کے ایک سیاست دان پر ایک نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔۔ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے ان واقعات پر سخت ردعمل نہ دینے پر ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مقبوضہ وادی کی آصفہ کے ساتھ جو ظلم کیا گیا بھارت کے علاوہ دنیا بھر کے باضمیر افراد سراپا احتجاج ہیں مگر بے جے پی سرکار نے جس طرح سیدھے سادھے جرم کو فرقہ وارنہ رنگ دیا وہ قابل مذمت ہونے کے علاوہ باعث تشویش بھی ہے۔بادی النظر میں گماں یہی ہے کہ مودی سرکار اس ضمن میں کسی طورپر اپنی زمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مجرموں کی پشت پناہی کرکے بھارتی وزیر اعظم یہ پیغام دینا چاہ رہے کہ ہندو عقیدے کے نام پر ”سیکولر “بھارت میں جو ظلم بھی روا رکھا جائے اسے نظرانداز کیا جائیگا۔
آصفہ کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اہمیت اختیار کرچکا۔ لندن میں بھارتی وزیراعظم کی آمد کے موقعہ پر انسانی حقوق کی تنظمیں جس طرح سراپا احتجاج نظر آئیں وہ بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسلہ دبنے والا نہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ حالیہ سالوں میں بھارت میں عصمت دری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے مگر حکومت اس مسلہ کو سنجدیگی سے لینے کو تیار نہیں۔ درحقیقت بے جے پی سرکار اپنی آئینی زمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے ان پرتشدد گروہوںکے ہاتھوں بلیک میل ہورہی جو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
مقام شکر ہے کہ معصوم آصفہ کا خون رائیگاں نہیں گیا، اب عالمی سطح پر بھارت سے یہ مطالبہ کیا جارہا کہ وہ اس معاملے میں اپنی آئینی اور قانونی زمہ داریاں ادا کرے۔ عالمی میڈیا میں اس معاملے کی گونج بھارت کے لیے ہرگز خیر کا پیغام نہیں لارہی۔ دوسری جانب معصوم آصفہ کا مقدمہ لڑنے والی دپیکا سنگھ کا کہنا ہے کہ انھیں جان کا خطرہ لاحق ہے اور اس حوالے سے انھوں نے کشمیر کی ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے جس کے بعد عدالت نے پولیس کو حکم جاری کیا دپیکا سنگھ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔دپیکا سنگھ نے میڈیا کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا میں نہیں جانتی کہ میں کب تب زندہ ہوں۔ میرا ریپ ہو سکتا ہے، میری عزت لوٹی جا سکتی ہے، مجھے بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ کل مجھے دھمکی دی گئی کہ ہم تمھیں معاف نہیں کریں گے۔دپیکا سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ جموں بار ایسوسی ایشن کے صدر نے انھیں خود عدالت کے باہر دھمکی دی تھی۔
دراصل دپیکا سنگھ نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کئی ایسے کیسز لڑے ہیں۔دپیکا سنگھ وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم وائس فار رائٹس کی سربراہ بھی ہیں۔
ماضی میں دپیکا سنگھ نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کئی ایسے مقدمات لڑے جن کا تعلق مفادِ عامہ سے تھا۔ ان کا کم عمر بچوں کے مجرمانہ کیسز میں وکالت کا کافی تجربہ ہے۔ ۔ دپیکا سنگھ نے ایک ذہنی طور پر غیر متوازن پاکستانی خاتون کا کیس بھی لڑا جو کہ 26 سال سے ایک انڈین جیل میں بند تھی اور اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔ماضی میں وہ کشمیر ٹائمز کے ساتھ بطور صحافی بھی کام کر چکی ہیں۔

Scroll To Top