پانچ سال سے مذاق ہی تو ہورہا ہے ! 09-03-2013

kal-ki-baat
جناب قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ جو تین نام نگراں وزیراعظم کے لئے مسلم لیگ (ن)نے اپوزیشن کی طرف سے تجویز کئے ہیں انہیں اگر ایک مذاق سمجھا جائے تو مناسب ہوگا۔
میں کائرہ صاحب کی اس رائے پر کوئی تبصرہ کئے بغیر یہ کہنا چاہوں گا کہ جو مذاق گزشتہ پانچ سال سے موجودہ جمہوری نظام کے ثنا خوان قوم کے ساتھ کررہے ہیں وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
میری حقیر رائے میں تو مسلم لیگ (ن)کو اپوزیشن سمجھنا بھی قوم کے ساتھ ایک مذاق ہی ہے۔ مسلم لیگ (ن)ملک کے 60فیصد آبادی والے صوبے پر حکومت کررہی ہے۔ پنجاب میں اس کی حکومت کی تشکیل پی پی پی کے تعاون کے ساتھ ہی ہوئی تھی۔ اور جب تک دونوں جماعتوں نے مناسب سمجھا دونوں ساتھ ساتھ چلیں۔
پھر ضرورت جمہوریت کو اپوزیشن کی پیش آگئی اور مسلم لیگ (ن)اپوزیشن بن گئی۔ اگر اپوزیشن کے بغیر یہ نظام چلتا رہتا تو لوگ اسے جمہوریت ہی نہ مانتے۔ پھر اس بات کا بھی امکان تھا کہ کوئی تیسری قوت اپوزیشن کا خلاءپُر کردیتی۔
یہ قوم اب ہر قسم کے مذاق کی عادی ہوچکی ہے۔ مسلم لیگ (ن)نے سستی روٹی ` دانش سکولوں ` آشیانہ سکیم ` لیپ ٹاپ کی تقسیم اور پھر میٹروبس سروس کا مذاق قوم کے ساتھ کیا۔
اگر یہ منصوبے پنجاب کے عوام کے شب و روز میں کوئی تبدیلی لے آتے تو مسلم لیگ (ن)کی قیادت کو اپنی سیاسی ساکھ قائم کرنے کے لئے” سروے “ نہ کرانے پڑتے۔
میرے خیال میں قوم کے ساتھ سب سے بڑا مذاق وزیراعظم صاحب نے یہ دعویٰ کرکے کیا ہے کہ ان کی جماعت اپنی پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات جیتے گی۔ یہ مذاق اس لحاظ سے ذرا منفرد نوعیت کا ہے کہ یہ وزیراعظم صاحب نے اپنے اور اپنی پارٹی کے ساتھ بھی کیا ہے۔

Scroll To Top