دو قائداعظم ۔۔۔حقیقی کون ؟ پہلا حصہ۔۔۔

aaj-ki-baat-new13جنوری1948ءکو بانی ءپاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے آفاقی اصولوں کو آزما سکیں۔“
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب قائداعظم ؒ نے پاکستان اور اسلام کا ذکر ایک ہی سانس میں ایک ہی مقصد کے لئے کیا۔
ان کا شایدہی کوئی خطاب ایسا ہوگا جس میں انہوںنے ” اسلامی فلاحی مملکت “ کے قیام کو اہلِ پاکستان کی ” منتخب منزل “ قرار نہ دیا ہو۔ شاید پاکستان اور اسلام کے درمیان علیحدگی اور فاصلہ قائم کرنے کا خواب دیکھنے والے لبرل اور سیکولر حلقے اس ضمن میں یہ توجیہہ دیں کہ جو بھی تقاریر قائداعظمؒ سربراہ ِ مملکت کے طور پر مختلف تقاریب میںکیا کرتے تھے وہ محض رسمی نوعیت کی ہوا کرتی تھیں اور ان کا مقصد مسلمانوں کے دینی جذبات کی تسکین کے سوا اور کوئی نہیںہوتا تھا۔
تو میں اِن اصحاب کی ” رہنمائی “ کے لئے بیورلی نکلز کی مشہور و معروف تصنیف Verdict On Indiaکا حوالہ دوں گا جو 1944ءمیں شائع ہوئی تھی اور جس میں برصغیر کے تمام بڑے لیڈروں کے مفصل انٹرویو شامل تھے۔ جو انٹرویو بطور خاص لوگوںکی توجہ کا مرکز بنا تھا وہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کا تھا۔
میں اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں لیکن یہاں بیورلی نکلز کے ایک اہم سوال اور اس سوال کے جواب میں قائداعظم ؒ کے ادا کردہ الفاظ کا ذکر ضروری ہے۔
بیورلی نکلز نے پوچھاتھا۔ ” اگر آپ پاکستان صرف اس لئے حاصل کرناچاہتے ہیں کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں تو کیا آپ پاکستان میں شریعت نافذ کریں گے۔؟“
جواب میں قائداعظم ؒ نے فرمایا۔ ” آپ کو پہلے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ شریعت کیا ہے۔ شریعت کا مطلب وہ قوانین ہیں جو اسلام کو ایک منفرد نظامِ زندگی کا درجہ دیتے ہیں۔ آپ خود ہی بتائیں کہ مسلمان اپنے ملک میں اپنے قوانین کیوںنافذ نہیں کرناچاہیں گے اور کیوں نافذ نہیں کریں گے۔؟ ”
میںجانتا ہوں کہ جو حلقے اور طبقے قائداعظم ؒ کی شخصیت کے اردگرد لبرلزم اور سیکولرزم کا حصار کھڑا کرنا ` بنانا یا قائم کرنا چاہتے ہیںوہ قائداعظمؒ کے متذکرہ بالا الفاظ پر بری طرح چونکیں گے۔ اگر انہیں یقین نہیں کہ قائداعظم ؒ نے ایسے الفاظ ایک انگریز ادیب اور تجزیہ کار سے کہے ہوں گے تو وہ انٹرنیٹ پر جائیں ` گُوگل کی مدد سے ” بیورلی نکلز “ کو تلاش کریں اور انہیں تلاش کرنے کے بعد Verdict On Indiaکے نام کی تصنیف تک پہنچیں۔ وہ چاہیں تو پورا نٹرویو ” ڈاﺅن لوڈ “ کرکے قائداعظم ؒ کے ادا کردہ ایک ایک لفظ کو پرکھ سکتے ہیں۔
ان کی رہنمائی کے لئے قائداعظم ؒ کے کچھ اور الفاظ میں یہاں در ج کئے دیتا ہوں۔
”ہم ہر لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں۔ مثال کے طور پر ہم گائے کو ذبح کرکے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اور ہندو گائے ماتا کو بھگوان سمجھ کر پوجتے ہیں۔“
آج یہ سب کچھ لکھنے کی ضرورت مجھے اس لئے پیش آئی ہے کہ ہمارے بعض دانشور اور سیاسی لیڈر حقیقی قائداعظم ؒ کو غائب کرکے اُن کی جگہ ایک ایسے قائداعظم ؒ کو” نصب “کرناچاہتے ہیں جو اسلام اورپاکستان کے درمیان ” خلع “ یا ” طلاق “ کے لئے میدان ہموار کرنے میں معاون ہوں۔
یہ جو نیا ”قائداعظم “ ہمارے ان نام نہاد دانشوروں کی گمراہ سوچ میں جنم پا رہا ہے اس کے ” وجود “ کو تقویت دینے کے لئے بار بار اس تقریر کا حوالہ دیا جاتا ہے جو بانی ءپاکستان نے 11اگست 1947ءکو آئین ساز اسمبلی میں کی تھی۔
پہلی بات جو اس ضمن میں یاد رکھی جانے چاہئے وہ یہ سوال ہے کہ ” اقلیتوں اور اکثریت کے درمیان تعلقات اور رشتے کے حوالے سے اتنا کچھ کہنے کی ضرورت بابائے قوم کو قیام ِ پاکستان سے تین روز قبل کیوں پیش آئی تھی۔ ؟“
سب جانتے ہیں کہ بہار اور مشرقی پنجاب دونوں اس وقت قتل و غارت اور خونریزی کے آتش فشاں پر بیٹھے تھے۔ اور یہ آتش فشاں باقی برصغیر میں بھی ایک دھماکے کے ساتھ پھٹنے والا تھا۔ قائداعظم ؒ آگ اور خون کے اس کھیل کے راستے میں اسلامی تعلیمات کی دیوار کھڑی کرنا چاہتے تھے۔ کون نہیں جانتا کہ اسلام رواداری کا دین ہے اور اسلام میں تحفظ اور حقوق کی ضمانت مملکت کے ہر شہری کو ” بلا امتیاز ِ نسل و مذہب “ دی جاتی ہے۔؟
قائداعظم ؒ نے متذکرہ خطاب میں اسلام کی اسی روح کو ابھارا تھا۔ ان کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ چونکہ پاکستان قائم ہونے والا ہے اس لئے دو قومی نظریہ کو دفن کردیا جائے ` اور مسلمان یہ بھول جائیں کہ وہ ایک الگ قوم ہیں۔قائداعظم ؒکی شخصیت کو ” ابہام کے دھند لکوں “ میں دھکیلنے والے درحقیقت” حقیقی پاکستان “کے دشمن ہیں۔ حقیقی پاکستان وہ نہیں جو دنیا کے نقشے پر جغرافیائی لکیروں کی صورت میں نظرآتا ہے۔ حقیقی پاکستان وہ ہے جو اس ” خطہءزمین “ پر آباد اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کے سینوں میں ” یک آواز “ دھڑکتا ہے۔ اللہ اکبر ۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر ۔
اس بات کا مطلب یہ ہر گز نہیں جن سینوں سے ” اللہ اکبر “ کی صدا بلند نہیں ہوتی ` یا جو کان اس صدا کا انتظار دن میں پانچ مرتبہ نہیں کرتے` وہ پاکستانی نہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ پاکستانی ہیں بلکہ یہ بھی کہ ان کے حقوق بھی وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔
(یہ کالم اس پہلے بھی 17-03-2013کو شائع ہوا تھا)
۔۔۔جاری ہے۔۔۔

Scroll To Top