ایک اور بچی شکار ہوگی

zaheer-babar-logo
پنجاب کے شہر قصور میںمعصوم زینب کی آبروریزی اور پھر اس کے قتل کا واقعہ جس طرح اہل پاکستان کے غم وغصہ کا باعث بنا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ واضح رہے کہ گزرے ماہ وسال میں ایسے دلخراش واقعات وسیع پیمانے پر اپنے اثرات مرتب نہیںکرپاتے تھے مگر الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی بدولت ان کی نوعیت مختلف ہوچکی۔ کراچی کے علاقے منگھوپیر میں 7 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے خلاف احتجاج کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جان بحق جبکہ ڈی ایس پی سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ منگھوپیر میں بچی کے قتل کے خلاف اورنگی ٹان میں ایم پی آر کالونی میں اہل خانہ بچی کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کررہے تھے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔
منگھو پیر میں پیش آنے والے واقعہ پر احتجاج اور پولیس کا ردعمل پھر بتا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی میں ایسی تربیت کا فقدان ہے کہ وہ کسی حساس صورت حال پر قابو پاسکیں۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے جس پر رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا. مظاہرین کے ساتھ تصادم کے باعث ایک ڈی ایس پی، 2 ایس ایچ او سمیت 10 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ 2 مظاہرین بھی زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگیا۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق جان بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت عبدالرحمن کے نام سے ہوئی اور اس کی موت سر پر گولی لگنے سے واقع ہوئی۔
خیال رہے کہ پولیس نے مارے جانے والے شخص کا نام الیاس حیدر بتایا جبکہ ہسپتال حکام کے مطابق مقتول شخص کا نام عبدالرحمن تھا ۔ بچی کے دادا عبدالقادر کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا جبکہ ان کی جانب سے نامزد 3 ملزمان میں سے 2 ملزمان فضل محمد اور رحیم بخش کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کی جارہی تھی ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل کے مطابق مارا جانے والا شخص پی ٹی آئی کا کارکن تھا اور پولیس کی جانب سے فائرنگ سے اس کی موت واقع ہوئی۔ان کا کہنا ہے کہ ایچ ایچ او کی جانب سے براہ راست فائرنگ کا حکم دیا گیا اور ایس ایس پی کی جانب سے مظاہرین سے بات کرنے کی کوشش تک نہیں کی گئی۔
معاملہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دو روز قبل بچی اغوا ہوئی لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ بچی رابعہ کی تدفین کے موقع پر رینجرز سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر نسیم، ڈی آئی جی ویسٹ عامر فاروقی، ایس ایس پی غربی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔
اس میں دوآراءنہیںکہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور پھر اس کا قتل بدترین اقدام ہے مگر لازم ہے کہ قانون کوا پنے ہاتھ میں لینے سے گریزکیا جائے ۔ جو بھی لوگ اس معاملے کو ہوا دے رہے انھیں اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔ حکام کو بھی ان عناصر پر نظر رکھنا ہوگی جنھوں نے احتجاج کو تشدد کا رنگ دیا۔ اس کی فوری طور پر تحقیقا ہونی چاہے کہ آخر مظاہرے کے دوران ایک شخص کیسے مارا گیا، اس ضمن میں میڈیا کیمروں کی فوٹیج سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ 15 اپریل کو بلوچ پاڑہ اورنگی ٹان کے رہائشیوں نے 7 سالہ رابعہ کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو کی تھی جبکہ اہل خانہ نے بچی کو تلاش بھی کیا تھا، تاہم بچی کے نہ ملنے پر اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ 16 اپریل کو پولیس کو منگھوپیر میں جھاڑیوں سے بچی کی تشدد زدہ لاش ملی اور کچھ ایسے شواہد ملے تھے جو ریپ کی نشاندہی کررہے تھے۔پولیس کے مطابق بچی کے ڈی این اے کے نمونے لے کر ٹیسٹ کے لیے فرانزک لیب بھیج دیئے گئے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ہی ریپ کی تصدیق یا تردید ہو سکے گی۔
بطور قوم ہمیں ان عوامل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کون سے وجوہات ہیں جو بعض بیمار زھنوں کو معصوم بچوں کے ساتھ گناہ پر آمادہ کررہے۔ اس ضمن میں سخت ترین سزاوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر اس جرم کے سدباب کے لیے سنجیدگی کے ساتھ غوروخوص کرنا ہوگا۔ آج اہل مذہب ہوں یا اہل دانش سب ہی کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہے۔ کسی ناخوشگوار واقعے پر فوری طور پر پرتشدد درعمل اور پھر اس پر خاموشی اختیار کرلینا زمہ دار شہریوں کی نشانی نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو جہاں سکولوں کی سطح پر بچوں میں یہ اس ضمن میں شعور بیدار کرنا ہوگا وہی والدین کو اپنی زمہ داریوں کا احساس کرنا چاہے۔
شہریوں کی جان ومال کا تحفظ ریاست کی اولین زمہ داریوں میںسے ایک ہے وجوہات کچھ بھی ہوں خبیر تا کراچی ایسے واقعات کا فوری طور پر روک تھام ہونی چاہے۔ احتجاج کرنے والوںسے بھی یہ گذارش یہ ہے کہ کسی بھی سانحہ کے بعد شہریوں کی یا سرکاری املاک کو نشانہ بنانا یا پھر معمولات زندگی کو درہم برہم کرنا کسی طور پر مناسب نہیں۔ گزرے ماہ وسال میں جو ہوا سو ہوا اب ان تمام اقدمات سے ممکن حد تک گریز اختیار کرنا ہوگا جو ارض وطن کو مہذب اور زمہ دار ریاست بنانے میں رکاوٹ بن رہے۔ یقینا متاثرین کو فوری انصاف ملنا چاہے تاکہ معصوم بچوں کے ساتھ ایسے المناک واقعات کے رونما ہونے میں نمایاں کمی آسکے۔

Scroll To Top