ایشیئن ذرایع ابلاغ کے رہنما جدید ایشیا کے فروغ کے لیے پرعزم۔۔۔۔

(خصوصی رپورٹ)

ایشئین زریع ابلاغ کے رہنما گزشتہ ہفتے جنوبی چینکے شہر سانیا میں منعقدہ ایک فورم پر اکھٹے ہوئے اور جدید ایشیا کے حوالے سے میڈیاکے باہم کردار اور مربوط عوامل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے تمام آپشنز پر بحث کی گئی۔ اس موقع پر کیمونسٹ پارٹی آف چائینہ کے پولیٹکل بیورو کے اہم رکن ہوان کن منگ جو کہ سی پی سی سنٹرل کمیٹی کی پبلسٹی کمیٹی کے ہیڈ بھی ہیں انہوں نے بواﺅ فورم برائے ایشیا ک افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک جدید اور وسعت پر مبنی پالیسیز سازی سے ہی ایشیا کے لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی کواسی صورت یقینی بنایا جا سکتاہے اگر ایک جدید ایشیا کی بنیاد پر کوششوں کو استوار رکھا جائے۔ ہانگ نے واضح کیا کہ چین نے اصلاحات کے عوامل کی ممد سے ہی ایشیا کو ایک جدید انداز میں آگے بڑھنے ک بنیاد فراہم کی ہے۔ اور ایشیا اس جدیدیت اور خوشحالی کے عمل کو دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیئے سنجیدہ اور کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اک جدید ایشیا دنیا کو ترقی کی سمت گامزن کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اسی طرھ دنیا بھر کے زرایع ابلاغ کو آگے بڑھنے اور پنپنے کے بہتر مواقع حاصل ہونگے۔اس طرح سے زرایع ابلاغ کو اس جدیدیت کے سفر میں اپنا کردار زمہ داری کیساتھ نبھانا ہوگا اور اس باہمی مفادات اور تعاون سے متعلق عوامل کو دنیا کے دیگر ممالک میں بسنے والے لوگوں تک پہنچانا ہوگا تاکہ دنیا کے لوگ باہمی مفادات اور باہمی تعاون کی مدد سے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکیں اور میڈیا کی زمہ درانہ کردار سے اس امر کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ چینی صدر شی جنپگ کے باہمی مفادات اور باہمی تعاون کے حوالے سے یہ اقدامات ایک ایسی کمیونٹی کے قیام کی تشکیل کو یقینی بنا سکتے ہیںجو باہمی روابط اور باہمی مفادات کے تحت ایک دوسرے سے منسلک ہوں۔ اور یہ ہی وہ چینی نظریہ اور عوامل ہیں جن کی مدد سے دنیا میں امن اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان براڈ کسٹنگ کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل شفقت جلیل نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میںایشئین پیسیفک ممالک میں بہتر حکومتی پالیسز کی بدولت دنیا کی آدھی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا گیا ہے اور اور ان ممالک نے غربت کے خاتمے کے حوالے سے بہت اہم ترین کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ سالیس سالوں میں چین نے 680ملین لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر کیا ہے اور چین سے غربت کے خاتمے کے حوالے سے بہت مثبت انداز میں عوامل کو یقینی بنایا ہے۔ غربت کے خاتمے کے حوالے سے بیرونی دنیا کو چین سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے اور ایشیا دنیا کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے اوراس حوالے سے باہمی تعاون کے حوالے سے یہ دنیا کا سب سے اہم ترین خطہ ہے۔ اس حوالے سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر بی آر دیپک نے کہا کہ چین کے ترقیاتی سفر کے تجربات کو دنیا بھر کے دیگر ترقی پزیر ممالک کو اپنانا چاہیے۔ کیونکہ مختلف تہذیبوں سے سیکھنا ایک اہم ترین سبق ہوتا ہے۔ اور اس حوالے سے لوگوں کو جدید عوامل اور نئے نظریات سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ جمود سے باہر نکل کر ترقی اور خوشحالی کویقینی بنایا جا سکے۔ اور موجودہ تناظر میں میڈیا ایک اہم ترین متحرک کردار ادا کر سکتا ہے اور میڈیا کے فورم سے عوامی سطع پر ایسے فورمز کا انعقاد بہت حوصلہ افزا ہو سکتا ہے جہاںلوگو ں کو ایک دوسرے کے نظریات اور تجربات سے سیکھنے میں حوصلہ افزائی ہو، تھائی ۔چائینیزکلچرل ریلیشن سپ کونسل کے چئیرمین پنجی جاروسمبت نے کہا کہ ایشیا کے میڈیا نمائندگان کا ایسا فورم ایک مثبت امر ہے اور ایسے عوامل سے ایشئن میڈیا کے مابین باہمی روابط اور باہمی تعلق کو فروغ حاصل ہوگاواضح رہے کہ اس بواﺅ فورم برائے ایشیا کے میڈیا کے حوالے سے منعقدہ اس فورم میں چالیس ایشئین ممالک کے تین سو سے زائد سکالرز اور 140میڈیا آرگنازئیشنز کے 300سے زائد نمائندگان سے اس فورم میں شرکت کی۔۔۔

Scroll To Top