گِدھوں کی خوراک اور پاکستان ! 07-03-2013

kal-ki-baatچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پہلی مرتبہ اس بات پر اپنی شدید برہمی کا اظہار نہیں کیا کہ کرپشن کے ملزموں کی گرفتاری عمل میں لانے سے باقاعدہ اجتناب برتا جارہاہے۔محترم چیف جسٹس کا تازہ ترین بیان این آئی سی ایل۔)نیشنل انشورنس کارپوریشن لمیٹڈ(کرپشن کیس کی سماعت کے دوران سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بڑے تلخ لہجے میں کہا ہے کہ متذکرہ کارپوریشن کے سابق چیئرمین ایاز نیازی کی تقرری مخدوم امین فہیم کی ہدایت پر ہوئی تھی اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کافی پیسہ سفر کرتا مخدوم صاحب کے اکاﺅنٹ میں بھی پہنچا۔
” اب تک تمام ملزموں کو جیل میں ہونا چاہئے تھا مگر سب دندناتے پھر رہے ہیں۔“ چیف جسٹس صاحب نے فرمایا۔
یہ تو صرف ایک کیس کی بات ہے۔ کرپشن کے ہر کیس میں ایک ہی کہانی دہرائی گئی ہے۔ اور یہ کہانی تو قیر صادق کی کہانی سے مختلف نہیں۔ ایک کیس ” حج کرپشن “ کا بھی تھا جس نے بڑی دھوم مچائی تھی۔ اس مرتبہ ” حج “ کی تیاریاں کچھ زیادہ ہی قبل از وقت کرلی گئی ہیں کیوں کہ حکومت کی مدت 16مارچ کو ختم ہورہی ہے۔ وزیر حج سید خورشید شاہ کے لئے ایسے ”نادر “ موقع سے محروم رہنا ناقابل برداشت تھا چنانچہ انہوں نے تمام انتظامات پہلے سے ہی کر لئے۔ اگر اُن کے بس میںہوتا تو وہ سعودی حکومت سے یہ بات منوالیتے کہ اس سال حج مارچ میں ہی کرا دیا جائے ۔ اگرچہ حکومت ِوقت کو امید ہے کہ وہ انتخابات کے بعد پھر واپس آئے گی اور اپنے ادھورے کام پورے کرے گی لیکن سید خورشید شاہ اپنا ” مقدر “ امید کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتے۔
چیف جسٹس صاحب موجودہ نظام کو پٹڑی پر رکھنے کا جو عزمِ صمیم رکھتے ہیں اس کے پیش نظر اس بات کی کوئی توقع نہیں کہ کسی ایاز نیازی یا کسی توقیر صادق کی گردن تک احتساب کا پھندا پہنچے گا۔ پاکستان کی حیثیت ایسے لاغر تھکے ہوئے بیمار مسافر کی رہے گی جس پر گِدھوں کے غول اسی طرح منڈلاتے رہیں گے۔ پاکستان کو بچانے سے زیادہ ضروری اُس نظام کو بچانا ہے جو گِدھوں کو بھرپور خوراک کی ضمانت دیتا ہے۔

Scroll To Top