فائرنگ کی شکل میں کیا پیغام دیا گیا

zaheer-babar-logo
لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دو بار فائرنگ کا واقعہ تشویشناک بھی ہے اور قابل مذمت بھی، اگر چہ جناب جسٹس اعجاز الاحسن اس کاروائی میں محفوظ رہے مگر یہ واقعہ ہر لحاظ سے غیر معمولی ہے۔اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دو بار پیش آیا۔ پہلے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر گذشتہ رات فائرنگ کی گئی، جس کے بعد صبح پھر ان کے گھر پر فائرنگ ہوئی ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار اس واقعے کے بعد خود جسٹس اعجاز کے گھر گے۔ چیف جسٹس نے آئی پنجاب کو بھی طلب کر لیا ۔اطلاع ملتے ہی رینجرز بھی موقعے پر پہنچ گئے۔ اس کاروائی کے درپردہ جو بھی عناصر ملوث ہوں حقیقت یہ ہے کہ اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ عام شہریوں کے علاوہ عدالت عظمی کے فاضل جج صاحبان کی حفاظت کی زمہ دار حکومت کے سر ہے جسے ہرگز کوتاہی نہیں برتنی چاہے۔یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ جناب جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کو ایک نہیں دو بار نشانہ بنانے کی درپردہ عوامل کیا تھے مگر اس سے اعلی ترین عدالتوں میں جاری حکمران جماعت کے خلاف مقدمات کا خیال ضرور آتا ہے۔وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا مگر یہ کافی نہیں ۔صوبائی حکو مت کو جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کرکے ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہوگا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ کی سیکیورٹی پولیس اور رینجرز نے سخت کردی۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر سے پستول کی 2 گولیاں ملی ہیں، جن کے بارے میں اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایک گولی رہائش گاہ کے مرکزی دروازے جبکہ دوسری گولی باورچی خانے کی کھڑکی میں لگی۔وزیراعلی پنجاب کے سیکریٹری لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں جسٹس اعجاز الاحسن کے کی رہائش گاہ پر ان سے ملنے کے لیے پہنچے مگر سپریم کورٹ انتظامیہ نے انہیں ملنے کی اجازت نہ دی۔
سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ان کے بعقول پورے ملک کے وکلا سپرہم کورٹ کے ججز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وکلاءتنظمیوں کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے وکلا سپریم کورٹ کے ججز صاحبان کے سپاہی ہیں۔وکلاءتنظمیوں کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر
نے چیف جسٹس نے وکلا برادری سے ‘انصاف کی فراہمی کو جاری رکھنے کے لیے کل عدالت میں پیش ہونے کی درخواست کی ہے کیونکہ سماعت کے لیے کئی مقدمات مقرر کیے جاچکے ہیں’۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘مقدمات میں پیشی کے لیے فریقین دور دراز علاقوں سے سفر کرکے پہنچتے ہیں اس لیے ہڑتال سے نہ صرف عدالت کی معمول کی کارروائی متاثر ہوگی بلکہ عوام کی توقعات کو بھی نقصان پہنچے گا’۔
خیال رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف پاناما پیپرز کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے۔ مذید یہ کہ جسٹس اعجازالاحسن سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپز کیس کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر ریفرنسز کی کارروائی کے نگراں جج بھی ہیں۔ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز کو توہینِ عدالت کے جس کیس کا سامنا ہے وہ جسٹس اعجاز الاحسن کے حوالے سے ہی ہے۔
وطن عزیز میں اب تک یہی ہوتا چلا آرہا کہ بڑے سے بڑے واقعہ پر بڑے بڑے دعوی اور وعدے کرکے عوام کی آنکھوں میںدھول جھونک دی جائے ۔ اس سلسلے میں کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں حد تو یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹوکے قاتلوں کو بھی تعین نہ کیا جاسکا۔ سانحہ ماڈل ٹاون میں دن دیہاڈے نہتے مرد وخواتین کو پولیس نے گولیاں مار کر قتل کردیا مگر قاتل ”نامعلوم “ ٹھرے۔ وقت آگیا ہے کہ ان ڈنگ ٹپاو پالیسوں سے اجتناب کیا جائے ، بدلے ہوئے پاکستان میں اپنی زمہ داریاں ٹھیک طور پر ادا کیے بغیر بات نہیں بنی والی۔
اگر مگر چونکہ چنانچہ کے باوجود پنجاب حکومت کی کارکردگی کسی بھی معاملے میں مثالی نہیں۔ شبہازشریف دس سال سے وزیر اعلی کے منصب پر فائز ہیں مگر صوبے تو دور لاہور شہر میںامن وامان کی صورت حال مثالی نہیں۔ محمکہ پولیس کو خادم اعلی کسی طور پر درست کرنے کو تیار نظر نہیں آتے وجہ صاف ظاہر ہے کہ جاری صورت حال ان کے لیے موزوں بن چکی۔
جناب جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پنجاب حکومت کے سرخرو ہونے کا ایک ہی راستہ ہے کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے جلد اور ٹھوس اقدمات اٹھائے جائیں۔ مجرم کوئی بھی ہو اس کو سامنے لانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ عام انتخابات میں اب زیادہ نہیں رہ گے ،نگران حکومتوں کے قائم ہونے سے پہلے اس واقعہ کے مجرم سامنے آنا ہی سرکار کے لیے نیک نامی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس میں دوآراءنہیں کہ جناب جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حکمران جماعت کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا۔اس کاروائی کے درپردہ جو عناصر بھی تھے اس نے مسلم لیگ ن کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کردیا ۔ بادی النظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر مجرم جلد گرفتار نہیں ہوتے تو مسقبل قریب میں بھی اس واقعے کی بازگشت سنی جاتی رہے گی۔

Scroll To Top