نواز شریف کو ایک دن میں دو جھٹکے: تا حیات نا اہلی کے بعد نیب نے بھی طلب کر لیا

  • جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے ¾جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی رہے گی ، آرٹیکل 62 ون ایف اس لیے ہے کہ دیانتدار، سچے، قابل اعتبار اور دانا افراد عوامی نمائندے بنیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن
  • نواز شریف نے1998ء میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جاتی امرا تک ذاتی مفاد کیلئے سڑک تعمیر کرائی جس کے نتیجے میں عوامی فلاح کے بہت سے منصوبے متاثر ہوئے ، نیب مراسلہ،21اپریل کو 11بجے دن تین رکنی کمیٹی کے سامنے پیش ہونیکاحکم

نواز نا اہل

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کی تشریح سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے تحت سابق وزیر اعظم نوازشریف اور جہانگیر ترین کی نا اہلی تاحیات ہوگی ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاءبندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے مذکورہ کیس کی 10 سماعتوں کے بعد 14 فروری 2018 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔جمعہ جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بینچ میں شامل 4 ججز عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں موجود تھے۔جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے۔عدالتی فیصلے میں کہا گہا کہ جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے،جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی رہے گی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ آئین کے تحت تاحیات پابندی امتیازی ¾کسی سے زیادتی یا غیر معقول نہیں بلکہ میدوار کی اہلیت پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پابندی عوامی ضرورت اور مفاد میں ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف اس لیے ہے کہ دیانتدار، سچے، قابل اعتبار اور دانا افراد عوامی نمائندے بنیں۔60 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرآنی آیات، اٹھارہویں ترمیم، مختلف آئینی ترامیم کے تجزیئے اور ارکان پارلیمنٹ کےلئے کوڈ آف کنڈکٹ کا حوالہ بھی موجود ہے۔فیصلے میں نااہلی کے معاملے پر 4 مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بھی رہنمائی لی گئی، جن میں امتیاز احمد لالی بنام غلام محمد لالی کیس، عبدالغفور لہڑی بنام ریٹرننگ افسر پی بی 29 فیصلہ، محمد خان کانجو بنام وفاق کیس فیصلہ اور اللہ دینو خان بھائیو بنام الیکشن کمیشن فیصلہ شامل ہے۔یہ سپریم کورٹ بینچ میں شامل 5 ججوں کا متفقہ فیصلہ ہے جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا کہ میں ساتھی جج جسٹس عمر عطا بندیال کے حتمی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، تاہم فیصلے کی وجوہات سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا۔جسٹس عظمت سعید نے لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار سے لیا گیا ہے۔انہوںنے لکھا کہ کچھ وکلاءنے یہ دلیل دی کہ 62 ون ایف انتہائی سخت ہے ¾یہ دلیل پارلیمنٹ کے ایوان میں تو دی جاسکتی ہے عدالت میں نہیں اور جنہوں نے یہ دلیل دی وہ یا تو پارلیمنٹرین رہے یا ترمیم کے وقت ایوان کا حصہ تھے۔جسٹس عظمت سعید کے اضافی نوٹ کے مطابق آئین سازوں نے جانتے بوجھتے 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا جبکہ سپریم کورٹ آئین میں نہ کمی اور نہ اضافہ کرسکتی ہےواضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھاجس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔دوسری جانب گذشتہ برس 15 دسمبر کو عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دیا تھا۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کی اسی شق یعنی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔جس کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا کہ آیا سپریم کورٹ کی جانب سے ان افراد کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا یا یہ نااہلی کسی مخصوص مدت کےلئے ہے۔اس شق کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ میں 13 مختلف درخواستوں پر سماعت کی گئی۔سپریم کورٹ میں یہ درخواستیں دائر کرنے والوں میں وہ اراکینِ اسمبلی بھی شامل تھے جنہیں جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر نااہل کیا گیا۔ان درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کرکے اس کی مدت کا تعین کیا جائے۔ ادھر نواز شریف کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، نیب نے نواز شریف کو اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے پر 21 اپریل کو طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف 21 اپریل کو صبح 11 بجے تین رکنی ٹیم کے سامنے پیش ہوں، نواز شریف نے بطور وزیر اعظم 1998 میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔نیب مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے جاتی امرا تک سڑک تعمیر کرائی، سابق وزیر اعظم کے حکم پر سڑک کی چوڑائی 20 سے 24 فٹ کی جس سے لاگت بڑھی۔نیب لاہور کے مطابق سابق وزیر اعظم پر بھائی کے ساتھ مل کر ذاتی فائدے کے لیے سڑک بنانے کا الزام ہے، نواز شریف کے حکم سے ضلع کونسل کے بہت سے عوامی منصوبے بند کرنے پڑے جس سے عوام کا نقصان ہوا۔

Scroll To Top