جسٹس نے جو کہنا ہے کہتا رہے: قانون کے مطابق فیصلے کرتے رہیں گے: چیف جسٹس پاکستان

  • جو صحیح ہوگا وہ ہم کرتے رہیں گے، آپ خود توکچھ کرتے نہیں ہم سو موٹو لیتے جائیں، آپ کہتے ہیں چڑھ جاسولی بیٹا رام بھلی کرےگا ¾ سرکاری وکیل کی سوموٹو لینے کی استدعا پر جسٹس ثاقب نثار کا جواب
  • سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئین اور قانون کی پاسدار ہیں، عدلیہ کو برا بھلا کہنے والوں کے معاملے کو ذاتی حیثیت میں نہیں دیکھ رہے،اس حوالے سے قانون خود اپنا راستہ لے گا، چیف جسٹس پاکستان کی طلباءکے وفد سے گفتگو

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دیئے ہیں کہ جس نے جو کہناہے کہتا رہے جو صحیح ہوگا وہ ہم کرتے رہیں گے۔ جمعہ کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ایڈہاک ملازم کی تقرری کیس کی سماعت کی۔ عدالت کے روبرو حکومتی وکیل نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس لے کر ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومتی اپیل زید المعیاد ہے ¾ ہم نے فیصلے قانون کے مطابق کرنا ہیں، آپ کرتے کچھ نہیں ہم سو موٹو لیتے جائیں، آپ کہتے ہیں چڑھ جاسولی بیٹا رام بھلی کرےگا ¾ میڈیکل کالجز طلبا سے 23، 23 لاکھ فیسیں لے رہے تھے ہم نے کم کروائیں، ابھی ایک کالج سے 25کروڑ روپے واپس کروائے ہیں، بلوچستان کے ہسپتال میں ایم آر آئی اور سی سی یو فنکشنل نہیں ¾یہ کام ریاست کے کرنے کے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس نے جو کہنا ہے کہتا رہے، جو صحیح ہوگا وہ ہم کرتے رہیں گے، جب جہاد پر چل پڑے تو کوئی قرار داد راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، ریفرنس کی بات کرتے ہیں اس سے پوچھیں جس نے ریفرنس نہیں لیا، ریٹائرڈ جج ہے پھر بھی اس کو سمن کر کے کورٹ بلالوں گا، کورٹ میں پوچھ لیں گے ریفرنس کس نے نہیں لیا یا کس نے نہیں دیا۔ دریں اثناء چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے کبھی کسی سیاسی مقدمے پر ازخود نوٹس نہیں لیا، تمام نوٹسز بنیادی حقوق سے متعلق ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کا دورہ کرنے والے نجی یونیورسٹی کے طلباء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیاسی مقدمات میں تمام فریقین نے عدالتی دائرہ اختیارتسلیم کیا،۔سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئین اور قانون کی پاسدار ہیں، عدلیہ کو برا بھلا کہنے والوں کے معاملے کو ذاتی حیثیت میں نہیں دیکھ رہے، اس حوالے سے قانون خود اپنا راستہ لے گا۔چیف جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے آج تک جتنے بھی ازخود نوٹسز لئے وہ عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق ہیں، کبھی کسی سیاسی مقدمے پر ازخود نوٹس نہیں لیا گیا کیونکہ بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ میرے سیاسی عزائم ہرگز نہیں ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد نہ تو سیاست میں آو¿ں گا، وکالت بھی نہیں کروں گا بلکہ تعلیمی میدان میں اپنی خدمات سرانجام دوں گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی سالمیت سب سے مقدم ہے، تفریق کرکے قوم کو آگےنہیں لے جایا جاسکتا، ملک کواس وقت یکجہتی کی ضرورت ہے، مل کر ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنانا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ بڑے محلات میں رہنے والےغریبوں کے حقوق کی باتیں کرتے ہیں، بلوچستان کی طرح خیبر پختونخوا بھی جاو¿ں گا، بلوچستان میں پانی ذخیرہ نہ کرکے غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، صاف پانی، توانائی ،صحت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے، شفاف انتخابات کی ضمانت دیتے ہیں، عدالتی بنیادی اصلاحات کے لئےکام شروع کردیا ہے، عدالتی اصلاحات نافذ کریں گے عوام کو جلد تبدیلی نظرآئے گی۔فرسودہ قوانین اورججوں کی تربیت کے بغیرعدالتی اصلاحات ممکن نہیں، لائ اینڈ جسٹس کمیشن کے تحت تمام قوانین کا جائزہ لیا جارہا ہے، عدالتی معاونت کیلئے وکلائ کو ذمہ داریاں سونپ کر تجاویز طلب کرلی گئی ہیں، تجاویز کاجائزہ لے کر مسودہ قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ بھجوایا جائے گا

Scroll To Top