اس حمام میں سب ننگے ہیں ! 27-02-2013

25فروری2013ءکی رات کو مجھے اے آر وائی پر مبشر لقمان کا ایک پروگرام دیکھنے کا موقع ملا جو ملتان کے نشتر ہسپتال کی حالتِ زار کے بارے میں تھا۔ جو کچھ میں نے دیکھا اس پر مجھے اپنی طبیعت اچھلتی محسوس ہوئی اور مجھے یوں لگا کہ جیسے شدید تعفن کی وجہ سے مجھے قے آجائے گی۔
میں نے زندگی میں ایسے کریہہ مناظر نہیں دیکھے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ ایک ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں آپ کو گندگی کے ڈھیر پڑے نظر آئیں ۔؟ اور ہسپتال بھی ایسا جسے ایک درسگاہ کا درجہ حاصل ہو !
میں سوچ رہا ہوں کہ ” جس صوبے کے ایک بڑے ہسپتال پر کچھ کچھ کھنڈر کا اور کچھ کچھ گندگی کے ڈھیر کا گمان ہوتا ہو کیا اس صوبے کے حاکم ومختار کویہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اپنی شناخت خادم ِ اعلیٰ کے طور پر کرائے۔؟“
میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کررہا کہ متذکرہ ٹی وی پروگرام میں پروپیگنڈے کی خاطر مبالغے سے کام لیا گیا ہو۔ لیکن کیمرہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میاں شہبازشریف کوچاہئے کہ وہ یا تو مبشر لقمان اور اے آر وائی پر ہتک عزت کا دعویٰ کریں  یا پھر قوم سے ان شرمناک مناظر پر خود معافی مانگیں جو متذکرہ پروگرام میں دکھائے گئے۔
اگر پنجاب کے بڑے پبلک ہسپتالوں کا حال یہ ہے تو ” گڈگورنس“ کے دعوے کرتے وقت حکومت پنجاب کو شرمندگی ضرور محسوس کرنی چاہئے۔
ایک بات تو طے ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار پر صرف مرکزی حکومت کی اجارہ داری نہیں۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔

kal-ki-baat

Scroll To Top