وطن ِ عزیز میں کروڑوں ہاتھ کس دُعا کے لئے اٹھتے ہیں ؟

” آج کی بات“ شروع میں نہایت ہی مختصر کالم ہوا کرتا تھا۔۔۔ اس کالم کی عمر اب 21برس ہوچکی ہے۔۔۔ اس دوران میں نے اس عنوان کے تحت سات ہزار سے زائد کالم لکھے ہیں۔۔۔ ” آج کی بات“ کے ساتھ میں انگریزی میں بھی ایک کالم Echos of the Heartکے زیر عنوان لکھتا رہا ہوں جو نیشنل ہیرلڈٹریبون کے اجراءسے پہلے بھی الاخبار میں شائع ہوا کرتا تھا۔۔۔نوائے وقت کے لئے میں نے چار برس تک ہفتہ وار کالم ” شناخت“ کے زیر عنوان لکھا۔۔۔ اس کے علاوہ میں ” ہمہ تن گوش “ کے لئے ایک ڈائری بھی قلمبند کرتارہا ہوں جس نے بے پناہ مقبولیت پائی تھی ۔۔۔
میں نے یہ لمبی چوڑی تمہید صرف یہ بات رجسٹر کرانے کے لئے باندھی ہے کہ قارئین کے ساتھ میرے تعلق میں کبھی تعطل پیدا نہیں ہوا۔۔۔ میں کئی بار کئی کئی دنوں کے لئے بیرون ملک بھی گیا تب بھی قارئین کے ساتھ میرا رابطہ قائم رہا۔۔۔
اب تو مجھے یہ سہولت بھی حاصل ہوگئی ہے کہ میرے پرانے کالم نئے بن کر آپ کے سامنے آجاتے ہیں۔۔۔ جو باتیں میں نے گزشتہ برسوں کے دوران لکھیں وہ آج بھی آﺅٹ آف ڈیٹ نہیں ہوئیں اور آج کے حالات پر بھی صادق آتی ہیں۔۔۔
شریف خاندان اور زرداری صاحب میرے قلم کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔۔۔ بالکل اسی طرح س طرح وہ ایک تہائی صدی سے ہمارے ملک اور اس کے مقدر کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔۔۔ میں جب بھی قلم اٹھاتا رہا ہوں بات بالواسطہ طور پر یا بلا واسطہ طور پر پاکستان کے دو حکمرانوں یا حکمران خاندانوں میں سے کسی کے ساتھ شروع ہوتی رہی ہے اور دوسرے پر ختم ہوتی رہی ہے۔۔۔
وطنِ عزیز میں ایسے ہاتھوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جو اب اس دُعا کے لئے اٹھتے ہیں کہ اے رب غفور و رحیم ہمارے گناہ معاف کر اور اس عذاب سے نجات دلا جو ان حکمرانوں کی صورت میں ہم پر نازل رہا ہے۔۔۔
شاید 2018ءاس عذاب کا آخری سال ثابت ہو۔۔۔ شاید اس بدنصیب قوم کی دُعاﺅں کی قبولیت کا وقت آن پہنچاہے۔۔۔
میں چند روز کے لئے ایک وفد کے ساتھ چین کے ایک بڑے اخبار کی دعوت پر چین جارہا ہوں۔۔۔چند روز کے لئے آپ کو میری گزشتہ تحریروں پر قناعت کرنی ہوگی۔۔۔ مگر آپ کو آج کے حالات اور ماضی کے حالات میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوگا۔۔۔
وطنِ عزیز میں تبدیلی کے سال1958ءسے 1963ءتک 1977ءسے 1981ءتک اور 1999ءسے 2002ءتک تھے۔۔۔ یعنی وہ برس جن کے دوران سیاست دانوں کے اثرات ملک کے حالات پر بڑے کم رہے ۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ میری یہ بات ” ثناءخوانانِ تقدیس جمہوریت“ کو ناگوار گزرے گی مگر جس جمہوریت کا چہرہ زرداری صاحب یا میاں صاحب جیسا ہے وہ جمہوریت اس ملک کے لئے ایک ڈراﺅنا خواب بن چکی ہے۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top