نوازشریف پھر نااہل

سپریم کورٹ نے اپنے ایک اور تاریخی فیصلے میں آئین کی شق 62 (1) (ف) کی تشریح کرتے ہوئے نااہلی کی مدت کو تاحیات قرار دیا ہے۔ مذکورہ فیصلے سے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور پاکستان تحریکِ انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر خان ترین تب تک نااہل رہیں گے جب تک ان کی نااہلی کے خلاف دوسرا فیصلہ نہیں آجاتا۔ مبصرین کے خیال میں نئے عدالتی فیصلے کے سیاسی اثرات مرتب ہونگے یعنی قوی امکان ہے کہ مسلم لیگ ن چھوڑنے کا جو سلسلہ شروع ہوچکا اس میں مزید تیزی آئے ، کہا جارہا ہے حکمران جماعت بتدریج مذید کمزور ہوگی۔ یاد رکھنا چاہے کہ پارلیمنٹ آئین کی یہ شق کو ختم کر سکتی ہے مگر اس کے لیے دو تہائی اکثریت ہونا لازم ہے لہذا مسقبل میں کسی سیاسی جماعت کو یہ اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آرہی۔ آئینی ماہرین کے بعقول سپریم کورٹ آف پاکستان کو آئین کی شق 189 کے تحت اس کا اختیار حاصل ہے، اہم بات یہ کہ اس کا اطلاق صرف انتخابات میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرواتے ہوئے ہوتا رہا ۔
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ آئین کی شق 62 ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں ۔ اس فیصلے کو پارلیمنٹ پر چھوڑا جا سکتا تھا لہذا رہنما کو زندگی بھر کے لیے انتخابی دوڑ سے باہر کر دینا ایسا فیصلہ ہے جس پر سپریم کورٹ پر آنے والے دنوں میں تنقید کی جاسکتی ہے ۔اگر مگر چونکہ چنانچہ کے باوجود نئے عدالتی فیصلے سے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات ہوں گے یعنی اب کسی بھی سیاستدان کی اہلیت کو سپریم کورٹ میں بغیر ٹرائل کے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اس سے زندگی بھر کے لیے چھٹکارہ حاصل کر لیا جائے۔
ستم ظریفی یہ ہوئی کہ نواز شریف کو اس شق کے تحت نااہل کیا گیا ہے جو کہ ان کے سیاسی سرپرست جنرل ضیا الحق نے آئین میں متعارف کروائی ۔ عدالتی فیصلہ بالکل غیر متوقع نہیں مگر یہ اس لحاظ سے متوازن ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے لیے بھی وہی سزا رکھی گئی ہے جو کہ نواز شریف کو دی گی۔ یاد رہے کہ نااہلی کی مدت پہلے 3 سال یا 5 سال کے لیے تھی مگر اب تاحیات نااہلی سے مسلم لیگ ن کو کتنا نقصان ہوگا یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
بظاہر جنوبی پنجاب، شیخوپورہ اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کا مسلم لیگ ن کو چھوڈنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ انھیں اندازہ ہوگیا تھا کہ نوازشریف کی سیاست اب دم توڈ چکی مگر یہ بھی نہیں بھولنا چاہے کہ سیاسی عصیبت جب جب کسی سیاسی شخصیت کو حاصل ہوجائے تو سیاست میں اس کے اثررسوخ سے انکار کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ یعنی قوی امکان ہے کہ مسلم لیگ ن میں میاں نوازشریف تاحیات نااہلی کے بعد بھی وہ ویسے ہی اپنی جماعت کے لیے فیصلے کرتے رہیں گے جیسے پہلے کررہے تھے۔ درحقیقت آئین اور قانون انہیں اپنے حامیوں یعنی سیاسی کارکنوں اور اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزرا سے ملاقاتیں کرنے سے نہیں روک سکتا ۔
اس پس منظر میں یہ کہنا مشکل ہورہا ہے کہ واقعتا میاں نواز شریف کی سیاست ختم ہوچکی اور اب وہ دوبارہ پارلیمنٹ میں واپس نہیں آئیں گے ۔ تاریخی طور پر اپریل 1999 میں سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو بھی کرپشن کے مقدمات میں سنائی جانے والی سزا کے فیصلے میں درج تھا کہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری دوبارہ کبھی بھی سیاست میں نہیں آسکتے مگر وہ فیصلہ بعد میں تبدیل ہوا اور دونوں شخصیات دوبارہ سیاست میں واپس آئیں۔ مگر چونکہ یہ فیصلہ عدالت عظمی کی جانب سے آیا ہے لہذا مشکل دکھائی دے رہا ہے کہ مسقبل قریب میں یہ تبدیل ہوسکے۔ ہمارے ہاں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کوئی سیاسی رہنما اپنے کی پارٹی کی حکومت میں اس قدر قانونی اور سیاسی مسائل سے دوچار ہوا۔ مسلم لیگ ن کی پنجاب میں بدستور حکومت ہے۔ حکمران جماعت یہ بھی دعوی کررہی کہ آنے والے عام انتخابات میں انھیں وسیع پیمانے پر سیاسی حمایت مل سکتی ہے۔ سیاسی پنڈت اس حوالے سے متفق نہیں کہ ایسے میں جب میاں نوازشریف کی بطور چار سالہ وزیر اعظم کارکردگی کسی طور پر متاثر کن نہیں رہی عام انتخابات میں وہ خاطر خواہ عوامی حمایت حاصل کرلیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا لوگوں کے مسائل حل نہ کرنے کی بجائے محض مظلومیت کی دہائی پی ایم ایل این کو ایک بار پھر مسند اقتدار پر فائز کردے گی تاحال واضح نہیں ۔ نہیں بھولنا چاہے ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کا عام شہری اپنے حقوق کے حوالے سے زیادہ حساس ہورہایعنی وہ سیاسی شخصیات کی اندھا دھند پیروی کرنے کی بجائے اپنے بنیادی مسائل حل کرنے کا تقاضا کررہے۔ اس بدلے ہوئے رجحان میں میاں نوازشریف کس حد تک اپنی سیاسی بقا کی جنگ جیت پائیں گے کچھ کہنا مشکل ہے۔پاکستان ایک تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ، قوی امکان ہے کہ وہ سیاسی چہرے جو کئی دہائیوں سے قومی منظر نامے پر چھائے رہے تادیر برقرار نہ رہیں ۔ یقینا کرپشن اور بیڈ گورنس کا چولی دامن کا ساتھ ہے جب اہل سیاست ملک کے اندر اور باہر اپنے کاروبار کو ترقی دینے میں مگن رہیں گے تو یقینا عوام کی مشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتی رہیں گی۔

zaheer-babar-logo

Scroll To Top