یہ سودا مہنگا نہیں ہوگا 26-02-2013

kal-ki-baat
اتوار کے روز پسنی بلوچستان کے نواحی علاقہ شادی کور کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 6مزدوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق مقتول شادی کور کے علاقے میں زیر تعمیر سڑک کے کام کے لئے وہاں مقیم تھے ۔ مقتول مزدوروں کا تعلق خیبرپختون خواہ سے بتایا جاتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ جس طرح ہمارے دشمنوں نے پاکستان کی سا لمیت اور معیشت کے خلاف اعلانِ جنگ کررکھا ہے اور وہ بلوچستان میں اپنی مذموم کارروائیوں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کئے چلے جارہے ہیں ` ہمیں بھی اب جمہوری حقوق اور آئینی تقاضوں جیسے پرُکشش الفاظ کے سحر سے نکل کر وہ تمام اقدامات کرنے ہوںگے جو دشمنوں کے مکروہ عزائم کو مٹی میں ملانے کے لئے ناگزیر سمجھے جائیں۔ بلوچستان کے جو عناصر بھی اپنے آپ کو مملکت ِ خدادادپاکستان کے محب ِوطن شہریوں میں شمار نہیں کرتے ان کا صفایا کرنے میں ہمیں غیر متزلزل اور آہنی ارادے سے کام لینا ہوگا۔ اگر وہ ہماری دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور بلوچستان کے امن و امان کو گولیوں اور بموں کے نشانے پر رکھنا چاہتے ہیں تو اُن کے وجود کو برداشت کرنا اس ملک سے غداری کے مترادف ہوگا۔
یہ بات سمجھنے ے لئے ار سطور کی ذہانت نہیں چاہئے کہ کون سے ممالک ہیں جنہیں گوادر کا چین کے زیر انتظام چلاجانا نامنظور ہے۔ ہم ان ممالک کے خلاف تو اعلانِ جنگ نہیں کرسکتے لیکن اپنے جن ایجنٹوں کی وہ سرپرستی کرتے ہیں انہیں کیفرکردارتک پہنچانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ہمیں امریکی صدر ابراہم لنکن سے زیادہ جمہوریت نواز نہیں ہونا چاہئے۔ لنکن نے جنوب پر فوجی چڑھائی کا فیصلہ کرتے وقت کہا تھا۔
” اگر امریکہ کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں لاکھوں جانوں کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں ہوگا۔“

Scroll To Top