آپ تو اپنی کار بھی ایسے ڈرائیور کے حوالے نہیں کرتے جسے آپ نے آزما نہ لیا ہو!

aaj-ki-baat-new

اگر آپ کو ایک سکول چلانا ہو ` ایک ہسپتال چلاناہو ایک فیکٹری چلانی ہو ` ایک کاروبار چلانا ہو یا ایک ادارہ چلانا ہو تو کیا آپ کوشش نہیں کریں گے کہ آپ کو متعلقہ شعبہ پر عبور رکھنے والے بہترین لوگوں کی خدمات حاصل ہوجائیں ۔؟آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کے سکول کا پرنسپل یا ہیڈماسٹر میٹرک فیل ہو۔ یا یہ کہ آپ کے ہسپتال کا نظم ونسق ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو نہ تو کسی بیماری کے بارے میں جانتا ہو اور نہ ہی کسی بیماری کے علاج کے بارے میں آگاہ ہو۔ اگر آپ کی فیکٹری یا کارخانے میں کپڑا بنتا ہے تو آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ اس کے امور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوں جو نہ تو کپڑا تیار کرنے کے پراسیس سے واقفیت رکھتے ہوں اور نہ ہی کپڑا بنانے کے عمل میں استعمال ہونے والی مشینوں سے آگہی رکھتے ہوں۔اسی اصول کا اطلاق کسی بھی کاروبار کو یا کسی بھی ادارے کو چلانے پر ہوتا ہے۔
یہ درست ہے کہ صحیح ذمہ داری کے لئے صحیح لوگوں کے انتخاب کا انحصار آپ کے وسائل پر بھی ہوگا۔ لیکن آپ کی خواہش یہی ہوگی کہ کسی نہ کسی طرح آپ کو جوہرِ قابل دستیاب ہوجائے۔ یہاں ایک مثال اور بھی دے دی جائے تو نامناسب نہیں ہوگا۔ وہ یہ کہ اگر خدانخواستہ آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو کسی خطرناک بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً دل کا دورہ وغیرہ۔ تو کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ کو بہتر سے بہتر ماہرِ قلبی امراض کی خدمات حاصل ہوجائیں۔؟
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ڈاکٹر یا انجینئر یا کوئی اور پروفیشنل بننے کے لئے آدمی کو تعلیم و تربیت کے بڑے کٹھن اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسا کبھی نہیںہوسکتا کہ آپ اپنے محلے کے لوگوں کو جمع کرکے کہیں کہ مجھے ووٹ دو تاکہ میں ڈاکٹر یا انجینئر یا چارٹرڈاکاﺅنٹنٹ بن جاﺅں۔
اگر ایسا ہو سکتا تو یونیورسٹیوں کی ضرورت ہی کیا تھی۔؟
یہ ساری تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ ہمارے پرستارانِ جمہوریت کو اس بات کا اندھا یقین ہے کہ کسی شہر ` کسی صوبے یا کسی ملک کو چلانا اتنا بڑا کام نہیں کہ اس کے لئے ہم قابلیت کو معیار بنائیں۔ کوئی بھی شخص جو ووٹوں میں اکثریت حاصل کرلے ملک کو اسی شان سے چلا سکتا ہے جس شان سے ہمارے سیاستدان چلاتے رہے ہیں ۔
ہمارے بعض دانشوروں کو شکایت ہے کہ سیاست دانوں کو برُا بھلا کہنا ایک فیشن بن گیا ہے۔ کاش کہ کوئی ہمارے ان دانشوروں کو یہ بتا سکتا کہ آپ تو اپنی کار بھی ایسے ڈرائیور کے حوالے نہیں کرتے جسے آپ نے اچھی طرح آزما نہ لیا ہو!
(یہ کالم اس سے پہلے بھی 06-03-2013 کو شائع ہوا تھا)

Scroll To Top