سلامتی کونسل کفن چوروں کا عالمی ٹولہ، امریکہ کی کٹھ پتلی ہے ،سراج الحق

  • کشمیر ، فلسطین کے مسائل پر سلامتی کونسل نے ستر سال سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں
اسلام آباد:۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق یوتھ جرگہ عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق یوتھ جرگہ عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں

اسلام آباد، لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکومت کی طرف سے 11اپریل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا متنازع آرڈی نینس ” انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیمی آرڈی نینس نمبر 2018-2 ءجو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں جماعت الدعوة پر پابندی سے متعلق ہے کے خلاف نامنظوری کا نوٹس سینیٹ میں جمع کرادیا ہے ۔ نوٹس پر ان کے ساتھ سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی دستخط کیے ہیں ۔بعد ازاں پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سلامتی کونسل سے عالم اسلام کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔یہ کفن چوروں کا عالمی ٹولہ اور امریکہ کی کٹھ پتلی ہے ، جبکہ حکومت آرڈی نینس کے ذریعے قانون میں ترمیم کے ذریعے اپنے ملک کو اقوام متحدہ کی غلامی میں دے رہی ہے ۔ آرڈی نینس میں ترمیم کے حکومت نے جو اغراض و مقاصد بتائے ہیں ، وہ اپنی عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ اپنی عدالتوں کو سلامتی کونسل کا پابند بنانا عدالتوں کی بے توقیری ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر صاحب کہتے ہیں کہ عدالتیں ثبوت مانگتی ہیں اور بعض اوقات ہمارے پاس ثبوت نہیں ہوتے جس کی وجہ سے عدالتیں ملزموں کو رہا کردیتی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بغیر ثبوت کے کونسا قانون اجازت دیتاہے کہ لوگو ں کو پابند سلاسل کردیاجائے۔ انہوںنے سوال کیا کہ کیا سلامتی کونسل کی طرف سے نامزد کیے اور خطرناک قرار دیے گئے ملزموں کے خلاف شواہد کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ؟سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم حکومتی ترمیم کی سینیٹ اور قومی اسمبلی ، دونوں ایوانوں میں مخالفت کریں گے ۔ حکومت اس ترمیم کو واپس لے اور عدلیہ پر اعتماد کیا جائے ۔انہوںنے کہاکہ سلامتی کونسل کا کردار پہلے دن ہی سے متنازعہ رہاہے ۔ خاص طور پر مسلم مقبوضہ علاقوں کے حوالے سے سلامتی کونسل کے دوہرے معیار کی وجہ سے یہ ادارہ اپنی اہمیت کھو چکاہے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا کوئی ایک بھی نمائندہ سلامتی کونسل میں نہیں ۔کشمیر ، فلسطین کے مسائل پر سلامتی کونسل نے ستر سال سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ کشمیر اور فلسطین میں روزانہ مسلمانوں کا قتل عام ہورہاہے اور دونوں مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں کو بدترین ریاستی دہشتگردی اور نسل کشی کا سامناہے مگر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور سلامتی کونسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کا مسلم مخالف رویہ کھل کر سامنے آچکاہے ۔انہوںنے کہاکہ سلامتی کونسل کے ہر فیصلے کو ہم نے اپنے آئین کی روشنی میں دیکھنا ہے ۔ ہمیں سلامتی کونسل کی غلامی کی بجائے اپنے آئین و دستور اور آئینی اداروں پر اعتماد کر نا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ڈس اپروول آرڈی نینس 2018-2 ءبابت 1997 ءمیں مجوزہ ترمیم کو واپس لے ۔

Scroll To Top