دماغی نقصان کو ٹھیک کرنے والا اسٹیم سیل دریافت

eجی ٹو کوائیسینٹ اسٹیم سیل کو دیگر دماغی خلیات میں ڈھال کر حادثے اور بیماری میں دماغ کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جاسکتا ہے (فوٹو: فائل)

کیمبرج، برطانیہ: حال ہی میں ایک نئی قسم کا خلیہ ساق (اسٹیم سیل) دریافت ہوا ہے جو دماغی ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ الزائیمر جیسے امراض کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس قسم کے خلیے کو ’جی ٹو کوائسینٹ اسٹیم سیل‘ کا نام دیا گیا ہے جو دماغی خلیات ساق کا ایک حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دوبارہ نمو یا ری جنریشن کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور ساتھ ہی جسم کے کئی اہم خلیات میں ڈھلنے کا اہل بھی ہے۔

جامعہ کیمبرج کے دو ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر کسی طرح اسے استعمال کرنے کا راز معلوم ہوجائے تو دماغی چوٹ کے بعد ہونے والے نقصان کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے ایک سائنس داں اینڈریا برانڈ کہتی ہیں کہ دماغ اپنی چوٹ ٹھیک کرنے کی بہت بڑی صلاحیت رکھتا ہے  لیکن یہ نیا خلیہ اس صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے، اگرچہ یہ خلیات بے عمل رہتے ہیں لیکن انہیں جگا کر کئی اہم دماغی خلیات میں بدلا جاسکتا ہے لیکن کوائسینٹ خلیات کو جگانے کے عمل سے ہم اب تک ناواقف ہیں۔

تاہم ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ جی ٹو کوائسینٹ اسٹیم سیل کو سرگرم کرنا دیگر کے مقابلے میں ایک آسان عمل ہوگا۔ اس کے بعد اسے نیورون، گلیائل اور دیگر خلیات میں بدلا جاسکے گا۔

ماہرین نے دیکھا کہ ایک خاص جین نے اس مکھی میں جی ٹو خلیات کو جگانے یا سرگرم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور عین اسی طرح انسانوں میں بھی اسے استعمال کیا جاسکے گا۔

دیگر ماہرین کا بھی اتفاق ہے کہ دماغی بیماریوں مثلاً پارکنسن میں خلیات ختم ہوتے رہتے ہیں اور بھیجہ گھلتا رہتا ہے۔ اب یہ اسٹیم سیل ان خلیات میں ڈھل کر اس نقصان کا ازالہ کرسکتے ہیں لیکن اس سے قبل خلیات کو جگانے کا عمل بہت ضروری ہے۔

واضح رہے کہ یہ مطالعہ ایک قسم کی مکھی ڈروسوفیلا پر کیا گیا ہے جس کا ڈی این اے بڑی مقدار میں انسانوں سے مشابہ ہے۔ اسی بنا پر مکھی کو ایک ٹیسٹ ماڈل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

Scroll To Top